کیا بلی پالنے سے انسان زیادہ خوش رہتا ہے؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف

بلی اور خوشی.webp


نئی تحقیق میں بلی پالنے اور خوشی کے احساس کے درمیان ایک دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے، ماہرین نے 93 ممالک کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد بلیوں کی زیادہ تعداد والے ممالک میں لوگوں کی خوشی کی شرح نسبتاً زیادہ پائی۔

تحقیق میں گھروں میں موجود بلیوں کی تعداد، لوگوں کی خوشی کی سطح اور ایک ایسے جراثیم کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا جو بلیوں میں پایا جاتا ہے اور انسانوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس جراثیم سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں تاہم بعض کمزور افراد میں یہ مختلف مسائل کا سبب بن سکتا ہے اور اسے ذہنی دباؤ، افسردگی اور دیگر ذہنی بیماریوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔

تحقیق میں ممالک کی معاشی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا گیا کیونکہ ماہرین کے مطابق مالی حالات بھی لوگوں کی خوشی اور زندگی کے اطمینان پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق جن ممالک میں بلیوں کی تعداد زیادہ تھی، وہاں لوگوں نے نسبتاً زیادہ خوشی کا اظہار کیا جب کہ ایسے ممالک جہاں مذکورہ جراثیم سے متاثر ہونے کی شرح زیادہ تھی، وہاں خوشی کی سطح نسبتاً کم دیکھی گئی۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بلی پالنے سے انسان لازمی طور پر زیادہ خوش ہوتا ہے یا مذکورہ جراثیم خوشی میں کمی کا براہ راست سبب بنتا ہے۔

تحقیق کا ایک حیران کن پہلو یہ بھی تھا کہ بلیوں کی زیادہ تعداد والے ممالک میں مذکورہ جراثیم سے متاثر ہونے کی شرح کم پائی گئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ بلیوں کی بہتر دیکھ بھال، صفائی کے بہتر انتظامات اور معاشی حالات ہوسکتے ہیں۔

امیر ممالک میں بلیوں کو عموماً گھروں کے اندر رکھا جاتا ہے، ان کا باقاعدگی سے علاج اور معائنہ کرایا جاتا ہے اور انہیں تیار شدہ خوراک فراہم کی جاتی ہے جس سے جراثیم کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق خوشی اور ذہنی سکون کا تعلق صرف معاشی حالات سے نہیں بلکہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل سے بھی ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں بلی پالنے والے اور بلی نہ پالنے والے افراد کا انفرادی سطح پر طویل عرصے تک جائزہ لیا جائے تو اس تعلق کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسی تحقیقات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ مسلسل ذہنی دباؤ اور ناخوشی انسانی صحت، کام کرنے کی صلاحیت اور مجموعی زندگی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ