مہاراشٹر میں پتنجلی کے گھی پر کارروائی، تکارام منڈھے کی قیادت میں 20.20 لاکھ روپے کا مال ضبط

Screenshot 2026 11 03 at 9.58.08 AM


علامتی تصویر۔پتنجلی

مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تہواروں کے دوران ملاوٹی اور ناقص اشیائے خوردنی کے خلاف مہم چلاتے ہوئے 114 ٹھکانوں سے 3.53 لاکھ کلوگرام اشیائے خوردنی ضبط کی۔ تکارام منڈھے کی قیادت میں چلائی گئی اس مہم کے دوران محکمہ نے پتنجلی کا 20.20 لاکھ روپے کا گائے کا گھی بھی ضبط کیا۔ اس کے علاوہ 19 کاروباریوں کے لائسنس معطل کیے۔

نئی دہلی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تہواروں کے دوران ملاوٹی اور ناقص معیار کی اشیائے خوردنی کے خلاف خصوصی مہم چلائی۔ اس دوران ریاست کے 114 ٹھکانوں سے تقریباً 3.53 لاکھ کلوگرام اشیا ضبط کی گئی۔ اس کی قیمت 9.01 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ غذائی تحفظ اور صفائی کے ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں 19کاروباریوں کے لائسنس اور رجسٹریشن بھی معطل کیے گئے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈھے کی قیادت میں محکمہ نے چھترپتی سمبھاجی نگر کے سندرواڑی میں ایک ڈسٹری بیوٹر کے یہاں سے پتنجلی کا 2,279.7 لیٹر گائے کا گھی بھی ضبط کیا۔ اس کی قیمت 20.20 لاکھ روپے ہے۔ محکمہ کو گھی کی پیکنگ پر غلط جانکاری دینے اور اس میں ملاوٹ کا شبہ تھا۔

اس سال جولائی میں بھی ایف ڈی اے نے خصوصی مہم چلا کر ’شرطیہ علاج‘ کے دعوے کرنے والی پتنجلی کی 51 لاکھ روپے کی دوائیں ضبط کی تھیں۔

کن اشیائے خوردنی کو ضبط کیا گیا؟

ضبط کی گئی اشیا میں خوردنی تیل، مصالحے، چاول، دالیں، گڑ، گیہوں اور چنے کا آٹا، گھی، دودھ سے بنی مصنوعات، مٹھائیاں، نمکین، خشک میوے، بیکری مصنوعات اور نوڈلز شامل ہیں۔

حکام کے مطابق، ایک ٹھکانےسے سب سے زیادہ خوردنی تیل ضبط کیا گیا۔ کونکن ڈویژن کے بھیونڈی میں ایونیو سپرمارٹس لمیٹڈ کے یہاں سے مختلف برانڈز کا 1,44,218 کلوگرام خوردنی تیل ضبط کیا گیا۔

کونکن ڈویژن میں سب سے زیادہ قیمت کی غذائی اشیا ضبط کی گئیں۔ یہاں 22 اداروں سے 1.67 لاکھ کلوگرام اشیا ضبط کی گئیں، جن کی قیمت 5.27 کروڑ روپے ہے۔

پونے میں 29 اداروں سے 66,709 کلوگرام اشیا ضبط کی گئیں، جن کی قیمت 1.47 کروڑ روپے ہے۔ چھترپتی سمبھاجی نگر میں 22 اداروں سے 33,679 کلوگرام اشیا ضبط کی گئیں، جن کی قیمت 89.41 لاکھ روپے ہے۔ وہیں ناگپور میں 20 اداروں سے 37,414 کلوگرام اشیا ضبط کی گئیں۔ ان کی قیمت 53.57 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

انیس لاکھ کاروباریوں کے لائسنس معطل

غذائی تحفظ اور صاف صفائی کے ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث 19 اداروں کے لائسنس اور رجسٹریشن معطل کر دیے گئے یا انہیں معطل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ ان میں گریٹر ممبئی، امراوتی اور چھترپتی سمبھاجی نگر ڈویژنوں کی مٹھائی کی دکانیں، نمکین تیار کرنے والی اکائیاں اور مصالحہ جات بنانے والے ادارے شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ معائنے کے دوران کئی طرح کی خامیاں سامنے آئیں۔ ان میں احاطے میں کیڑے مکوڑوں اور چوہوں کی موجودگی، گندگی، اشیائے خوردنی کو کھلا رکھنا، سامان کو غلط طریقے سے ذخیرہ کرنا، کیڑوں پر قابو پانے سے متعلق ریکارڈ کا نہ ہونا اور ملازمین کے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ موجود نہ ہونا شامل ہیں۔

محکمہ نے ناسک، چھترپتی سمبھاجی نگر اور ناگپور ڈویژنوں میں 34 ہوٹلوں، ریستورانوں اور ڈھابوں کا بھی معائنہ کیا۔ صاف صفائی اور غذائی تحفظ کے ضوابط میں خامیاں پائے جانے پر ان اداروں کو اصلاح کے لیے 29 نوٹس جاری کیے گئے۔

حکام کے مطابق، یہ مہم اکتوبر میں ریاست کے تمام سات ڈویژنوں میں چلائی گئی۔ 28 سے 31 اکتوبر کے درمیان معائنے کی کارروائی میں مزید تیزی لائی گئی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ