امت شاہ نے راہل گاندھی پر پھر سے لگایا ’بنگلہ دیشی دراندازوں‘ کو بچانے کا الزام، لیکن حکومت کے پاس نہیں ہے اس کا ڈیٹا

PTI11 02 2026 000350B scaled 1


مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سوموار، 2 نومبر 2026 کو حیدرآباد میں بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ’لوک تنتربچاؤ، اراجکتا ہٹاؤ‘ مارچ کے دوران لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بار پھر راہل گاندھی پر ایس آئی آر  کے ذریعے ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ’دراندازوں‘ کو بچانے کا الزام لگایا ۔ تاہم، شاہ کے دعوے کے برعکس، نہ تو الیکشن کمیشن کے پاس ایسے لوگوں کا الگ سے کوئی ڈیٹا ہے اور نہ ہی وزارت داخلہ کے پاس ملک میں پہچانے گئے غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کا کوئی ریکارڈ مرکزی  سطح  پردستیاب ہے۔

نئی دہلی: ایس آئی آر کو لے کر جاری سیاسی تنازعہ کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ شاہ کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے تین کروڑ نام ایسے لوگوں کے تھے، جن کا کوئی وجود نہیں تھا۔ انہوں نے ان لوگوں کو بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا بتایا۔

تاہم، امت شاہ کے اس دعوے پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایس آئی آر کا عمل مکمل کر چکے یا اس سے گزر رہے چھ ریاستوں میں اب تک تقریباً 1600 مشتبہ غیر ملکی شہریوں کا پتہ چلا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 716 کرناٹک میں ملے، جن میں 545 نیپالی شہری تھے۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس ایسے معاملوں کے کوئی مجموعی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ، دی رپورٹرز کلیکٹو کی جانچ میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر میں ووٹروں کو غیر ملکی شہری کے طور پر نشان زد کرنے کا کوئی آپشن ہی موجود نہیں تھا۔ بہار میں 100 سے زیادہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) نے آر ٹی آئی کے جواب میں اس کی تصدیق کی تھی۔

تاہم، دی وائر نے فروری 2026 میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی جانکاری کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں پہچانے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کے اعداد و شمار مرکزی سطح  طور پر دستیاب نہیں ہیں۔

امت شاہ نے کیا دعویٰ کیا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق، سوموار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں راہل گاندھی کی ریلی کے ایک دن بعد امت شاہ نے ایس آئی آر کو لے کر کانگریس کو نشانہ بنایا۔

شاہ نے کہا کہ کانگریس ایس آئی آر کی مخالفت اس لیے کر رہی ہے، کیونکہ وہ غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازوں کو بچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ ایس آئی آر کے دوران 13 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے ہیں۔

شاہ نے کہا،’6.25 کروڑ ووٹر صرف نئے پتے پر چلے گئے ہیں، تقریباً تین کروڑ لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور قریب ایک کروڑ نام دہرائے گئے ہیں۔ باقی تین کروڑ کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے، وہ بنگلہ دیشی درانداز ہیں۔‘

انہوں نے راہل گاندھی پر ’فرضی ووٹنگ کے ذریعے انتخابات جیتنے‘ کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا۔

اس سے قبل 13 اکتوبر کو بھی امت شاہ نے کہا تھا کہ ’راہل گاندھی کا ایس آئی آر کے بہانے دراندازوں کو بچانے کا منصوبہ ملک کے لوگو سمجھ چکے ہیں۔‘

چھ ریاستوں میں تقریباً 1600 مشتبہ غیر ملکی شہریوں کا پتہ چلا

ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل مکمل کر چکے یا اس سے گزر رہے چھ صوبوں میں تقریباً 1600 مشتبہ غیر ملکی شہریوں کا پتہ چلا ہے۔ ان صوبوں میں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 9.86 کروڑ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کرناٹک میں ایس آئی آر کے بعد حتمی ووٹر لسٹ سے تقریباً 99.7 لاکھ نام ہٹا ئے گئے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ایک افسر نے بتایا کہ حکام نے 716 غیر ملکی شہریوں کی پہچان کی تھی۔ ان میں بنگلورو نارتھ میں رہنے والے نیپال کے 545 شہری شامل تھے۔

جنوبی کنڑ ضلع میں 40 اور شمالی کنڑ میں 22 غیر ملکی شہریوں کا پتہ چلا۔ اڈپی میں 47 غیر ملکی شہری ملے۔ ان اضلاع میں نیپال، پاکستان، بنگلہ دیش، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے شہری شامل تھے۔

کیرالہ میں ایسے تقریباً 500 لوگوں کا پتہ چلا جن کے پاس غیر ملکی شہریت تھی، لیکن ان کے نام ووٹر لسٹ میں درج تھے۔ گوا میں 419 مشتبہ غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کی شناخت کی گئی۔

جھارکھنڈ میں تین افغان شہریوں اور میگھالیہ میں نیپالی نژاد دو افراد کے نام ووٹر لسٹ میں پائے گئے۔ میزورم میں ایسے کسی معاملے کی جانکاری نہیں ملی۔

ہندوستان ٹائمز نے 26 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران سے رابطہ کیا تھا، جہاں ایس آئی آر مکمل ہو چکا تھا یا مسودہ ووٹر لسٹ شائع ہو چکی تھی۔ ان میں سے 11 ریاستوں کے افسران نے جواب دیا۔ چھ ریاستوں نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کی تعداد بتائی، جبکہ چار ریاستوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے کوئی اعداد و شمار نہیں رکھتے۔ اڑیسہ کے ایک افسر نے بتایا کہ ایسے معاملے ملے تھے، لیکن ان کی تعداد درج نہیں کی گئی۔

ایک افسر نے بتایا، ’ہمارے پاس اس سلسلے میں مجموعی طور پر یا ریاست کے لحاظ سے اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ اگر ایسے معاملے سامنے آئے تو انہیں اے ایس ڈی ڈی او میں ’دیگر‘ کے زمرے کے تحت رکھا گیا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ان سے ان معاملوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے نہیں کہا۔‘

الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر میں غیر ملکی شہریوں کی شناخت کا کوئی آپشن نہیں

گزشتہ مہینے دی رپورٹرز کلیکٹو کی ایک جانچ میں الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے عمل اور اس کے سافٹ ویئر کے حوالے سے ایک اہم بات سامنے آئی تھی۔ اس کے مطابق، کمیشن کے سافٹ ویئر میں افسران کے پاس کسی ووٹر کو غیر ملکی شہری کے طور پر نشان زد کرنے کا کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔

اس رپورٹ کے لیے دی رپورٹرز کلیکٹو نے الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر کی جانچ کی اور آر ٹی آئی کے تحت جانکاری مانگی۔ بہار میں 100 سے زیادہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران نے جواب دیا کہ ایس آئی آر کے دوران انہیں ایسے لوگوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، جو ہندوستانی شہری نہیں تھے۔

بہار میں ایس آئی آر کا عمل جون 2025 میں شروع ہوا تھا۔ اس وقت الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہونا ان وجوہات میں سے ایک ہے، جن کی بنا پر نظرثانی کی ضرورت پیش آئی ہے۔ کمیشن نے سپریم کورٹ میں بھی اس مقصد کا ذکر کیا تھا۔

لیکن دی رپورٹرز کلیکٹو کے مطابق، جب بہار میں ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ناموں کی تفصیلات عام کی گئیں تو اس میں غیر حاضر، منتقل اور فوت شدہ ووٹروں کی تعداد بتائی گئی۔ غیر ملکی شہری ہونے کی بنیاد پر ہٹائے گئے ووٹروں کا کوئی الگ ڈیٹا نہیں تھا۔

وزارت داخلہ کے پاس بھی ملک بھر کے اعداد و شمار دستیاب نہیں

 دی وائر نے فروری 2026 میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی جانکاری کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں پہچانے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کے اعداد و شمار مرکزی سطح  طور پر دستیاب نہیں ہیں۔

آر ٹی آئی کارکن کنہیا کمار نے وزارت داخلہ سے گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک بھر میں پہچانے گئے، پکڑے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کی سال کے حساب سے تفصیلات طلب کی تھیں۔ درخواست میں ان کی قومیت کی بنیاد پر بھی اعداد و شمار مانگے گئے تھے۔

Screenshot 2026 02 11 at 2.23.58 PM 1
آر ٹی آئی درخواست کا جواب۔

قابل ذکر ہے کہ23جنوری 2026 کو دیے گئے جواب میں وزارت نے واضح کیا کہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں یا غیر قانونی تارکین وطن کی پہچان، گرفتاری اور ملک بدری سے متعلق اعداد و شمار مرکزی سطح پر اس کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔

وزارت نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ ’امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ، ‘2025کے تحت غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کا پتہ لگانے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور انہیں ملک سے باہر بھیجنے کے اختیارات ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو سونپے گئے ہیں۔

دی وائر نے مارچ 2026 میں آسام سے متعلق اپنی ایک دوسری رپورٹ میں بتایا تھا کہ وہاں بھی گزشتہ دس برسوں کے دوران شناخت کیے گئے، پکڑے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کے اعداد و شمار آر ٹی آئی کے ذریعے نہیں مل  سکے تھے۔

Screenshot 2026 03 29 at 7.33.36 PM
آر ٹی آئی کا جواب۔

آسام کے محکمہ داخلہ اور سیاسی امور نے کہا تھا کہ یہ معلومات اس کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔ محکمے نے بتایا کہ متعلقہ معلومات آسام پولیس بارڈر آرگنائزیشن کے پاس ہیں۔ اس تنظیم کو آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 24(4) کے تحت معلومات فراہم کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

کانگریس نے وزیر داخلہ سے پوچھے تین سوال

اس سے قبل جب امت شاہ نے راہل گاندھی پر مبینہ دراندازوں کو بچانے کا الزام لگایا تھا، تب کانگریس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے وزیر داخلہ سے تین سوال پوچھے تھے۔

پوچھا گیا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران کتنے دراندازوں کی شناخت کی گئی، کتنے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے اور کتنے لوگوں کو ملک بدر کیا گیا۔

کانگریس  نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے معاملے میں دراندازوں کا مسئلہ اٹھا کر اصل سوال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، اصل مسئلہ لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 100کروڑ ہندوستانیوں کو ایس آئی آر کے عمل سے گزرنا پڑا ہے اور انہیں اس کے نتائج جاننے کا حق حاصل ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ