اسلام آباد / نئی دہلی / تہران —
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان پاکستان نے سفارتی محاذ پر نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کی پیشکش کی، جسے عالمی سطح پر مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ایران پر حملے روکے جائیں تو تہران بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دے گا۔
اس پیش رفت پر بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض بھارتی تجزیہ کاروں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک سینئر مبصر نے یاد دلایا کہ اڑی واقعے کے بعد مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم آج پاکستان عالمی سفارت کاری کے مرکز میں ہے جبکہ بھارت پسِ پردہ نظر آتا ہے۔

