ایران جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش، امریکی جنرل نے ٹرمپ کو خطرات سے آگاہ کردیا


واشنگٹن، 8 اگست 2026: امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے کا راستہ تلاش کیا جائے، کیونکہ محدود فوجی اختیارات کے باوجود وسیع تر ایرانی جوابی کارروائی کا خطرہ برقرار ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل ڈین کین نے سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اعلیٰ حکام کے سامنے اپنے خدشات پیش کیے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے تہران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا مشکل ہوگا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ زمینی کارروائی سے گریز کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جولائی کے آخر میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں اضافے کی تجاویز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران امریکی اتحادیوں، خلیجی ممالک اور خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ خلیجی شراکت داروں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے انتباہ کے بعد صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر آپریشن مؤخر کردیا۔
رپورٹس میں امریکی ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز اور گائیڈڈ گولہ بارود کے کم ہوتے ذخائر پر بھی تشویش کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے طویل جنگ جاری رکھنے کی واشنگٹن کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
جنرل کین نے اگرچہ فوجی خطرات سے خبردار کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکم ملنے پر امریکی افواج ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انتظامیہ اب ایسے ممکنہ نتیجے کی تلاش میں ہے جسے صدر ٹرمپ سیاسی فتح کے طور پر پیش کرسکیں، سفارت کاری کے امکانات برقرار رہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی معاہدہ بھی طے پاسکے۔
یو ایس ایس لنکن کی طویل تعیناتی پر اہل خانہ تشویش میں
دوسری جانب امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس لنکن کی طویل تعیناتی پر فوجی اہل خانہ نے نیوی کے اعلیٰ حکام سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 200 اہل خانہ نے قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ سے سان ڈیاگو میں ملاقات کی اور فوجیوں کی ذہنی صحت، تھکن، خوراک کی قلت، آلودہ پانی، باتھ رومز کے مسائل، سکیورٹی اور ڈاک کی فراہمی میں رکاوٹوں سے متعلق شکایات پیش کیں۔
نیوی حکام کے مطابق یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اسٹرائیک گروپ کو لنکن کی جگہ تعینات کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، تاہم آپریشنل سکیورٹی کے باعث واپسی یا ریلیف کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
جمعہ تک یو ایس ایس لنکن 259 دن سے تعینات تھا، جبکہ اس کا عملہ مسلسل 208 دن سمندر میں گزار چکا ہے۔ حکام نے خاندانوں پر پڑنے والے دباؤ کا اعتراف کیا اور کہا کہ بحرین میں لاجسٹک مسائل کے باعث رسد کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، تاہم صورتحال میں بہتری آرہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ