امریکہ ایران مکالمہ پاکستان کی کوششوں کا نتیجہ: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

398928 1518554751


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریش نے منگل کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کرنے اور ثالثی کے کردار کی تعریف کی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ 17 جون کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی اور آئندہ مذاکرات کا ڈھانچہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے تنازع کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ لڑائی ختم کی جائے، سفارت کاری کی طرف واپسی ہو اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیاں مکمل طور پر بحال کی جائیں۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس حق کے مکمل حصول کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

 ان کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے اس مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔

افغان مہاجرین

سیکرٹری جنرل نے اپنے سابقہ منصب، یعنی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی میزبانی کو قریب سے دیکھا ہے۔

ان کے بقول پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغانوں کو پناہ دی، جو تنازعات اور عدم استحکام سے بچ کر یہاں آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تحفظ کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ان کے مطابق افغانوں کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار طریقے سے ہونی چاہیے۔

سلامتی کونسل اور امن مشن

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ دو برسوں میں سلامتی کونسل کے رکن کے طور پر کثیرالجہتی نظام، مکالمے، ثالثی اور سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور عدم اعتماد کے دور میں یہ کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے پاکستان کو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے قدیم اور بڑے حصہ داروں میں سے ایک قرار دیا۔

 ان کے مطابق پاکستانی مرد و خواتین نے مشکل اور خطرناک ماحول میں ہمت کے ساتھ خدمات انجام دیں، جبکہ 180 سے زائد پاکستانی امن کی خدمت کے دوران جان سے گئے۔

سیکرٹری جنرل نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 میں پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

 ان کے مطابق اس قرارداد سے اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر جواب دہی مضبوط ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 156 ممالک نے اس کی مشترکہ سرپرستی کی، جو سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کے لیے اقوام متحدہ کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ آج بعد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے انڈیا و پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ مشن اور دنیا بھر کے امن اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

سلامتی اور انسانی حقوق

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے، ہزاروں لوگ جان سے گئے اور خاندان اور برادریاں آج بھی اس کے اثرات بھگت رہی ہیں۔

 انہوں نے عسکریت پسندی کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔

اس ضمن میں انہوں نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا: ’دہشت گردی کا تدارک اور جائز سلامتی خدشات کا حل ضروری اور ناگزیر ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ سب سے مضبوط اور مؤثر سلامتی وہی ہے جو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحت یقینی بنائی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہی اقدار معاشروں کے اندر بھی ضروری ہیں۔ ان کے مطابق جامع ادارے، انسانی حقوق کا احترام اور فعال شہری فضا سماجی ہم آہنگی مضبوط کرنے، اعتماد کی تعمیر اور لوگوں کو ملک کے مستقبل میں مکمل کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے لازم ہیں۔

موسمیاتی بحران

سیکرٹری جنرل نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے اپنے گزشتہ دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی، لیکن ساتھ ہی عوام کی ہمت، عزم اور یکجہتی بھی دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کی زد میں اگلی صفوں میں ہے، اور اس کے ردعمل میں بھی اگلی صفوں میں ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں نقصان اور تلافی کے فنڈ کے قیام میں پاکستان کی قیادت اور ملک میں صاف توانائی کی طرف بڑھتے رجحان کا حوالہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمزور ترقی پذیر ممالک کی قیادت ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ جی 20 کے ممالک عالمی اخراج کے 80 فیصد کے ذمہ دار ہیں اور اس دہائی میں ان میں بڑی کمی ضروری ہے۔ سیکرٹری جنرل کے مطابق ’مشترک مگر مختلف ذمہ داریوں‘ کا اصول لاگو ہونا چاہیے، تاہم تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو باکو میں کوپ 29 اجلاس کے وعدے بھی پورے کرنے چاہئیں اور ترقی پذیر ممالک کو درکار مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔

گفتگو کے اختتام پر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کی طرح چیلنجز درپیش ہیں، تاہم انہیں پاکستانی عوام کی استقامت اور بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم نے متاثر کیا۔

 انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انہوں نے دنیا کے لیے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ