
(ویب ڈیسک)جنوبی کوریا میں مالیاتی اداروں پر حالیہ سائبر حملوں کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ہیکرز نے حملوں میں اے آئی کا استعمال کیا ہو۔
حکام کے مطابق اب تک 7 مالیاتی ادارے متاثر ہوئے ہیں، حملہ آوروں نے بنیادی بینکنگ یا ادائیگی کے انتہائی محفوظ نظام کے بجائے نسبتاً کم محفوظ کاروباری معاونت اور ملازمین کے استعمال والے سسٹمز کو نشانہ بنایا، جہاں سے صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا گیا۔
صدر لی جے میونگ نے تحقیقات تیز کرنے اور نقصان کم سے کم کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تحقیقات میں 28 مشتبہ آئی پی ایڈریسز بھی مالیاتی اداروں کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں،حکام کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے حملہ آور کمزوریوں کی تلاش اور حملوں کے مختلف مراحل کو زیادہ تیزی سے خودکار بنا سکتے ہیں، جس سے روایتی دفاعی نظام کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 18 دہشت گرد جہنم واصل
جنوبی کوریا کے مالیاتی حکام نے بینکوں اور دیگر اداروں کو اپنے بیرونی طور پر قابلِ رسائی آئی ٹی نظام، تصدیقی طریقۂ کار اور رسائی کے اختیارات کی ہنگامی جانچ کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کو فِشنگ جیسے حملوں میں استعمال کیا گیا تو اس سے مزید فراڈ اور ڈیٹا چوری کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

