امریکی بحری کمانڈر کی اعلیٰ افسران کیساتھ سعودیہ آمد؛ عسکری تعاون پر گفتگو

untitled 21791393618 0


سعودی عرب کے بحری افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریری سے امریکی بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر وائس ایڈمرل کرٹ رینشا نے ملاقات کی۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق امریکی بحری کمانڈر اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انھوں نے سعودی رائل نیول اسٹاف کے سربراہ سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سمیت خطے کے اہم آبی راستوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی۔

علاوہ ازیں بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں بحری سلامتی کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی گفتگو کی گئی۔

ملاقات میں سعودی اور امریکی بحری کمانڈرز نے سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

سعودی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان بحری تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں بحری سلامتی اور آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخری روز سے مسلط کی گئی جنگ کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ یہ وہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے تیل و گیس کے دنیا بھر مین ترسیل ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز بند ہونے سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور پیٹرول کی قیمت آسمان سے باتیں کرنی لگی ہے خود امریکا میں تیل اور اشیایہ ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

ادھر یمن کے حوثیوں نے بھی باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور صرف پیشگی اجازت لینے والے آئل ٹینکرز کو ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے اس طرح تیل کی ترسیل کا یہ راستہ بھی تقریباً بند ہے۔

سعودی عرب نے باب المندب میں بحری ناکہ بندی پر مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل سے حوثیوں کے خلاف عسکری تعاون مانگا تھا تاہم صدر ٹرمپ نے انکار کردیا تھا اور اسرائیل نے بھی یہ محاذ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ