نیند سے محروم جاپان نے بہترین جھپکی لینے کو مقابلے میں بدل دیا

jp 061026 d


ٹوکیو،
جاپان، جو طویل اوقاتِ کار اور دائمی نیند کی کمی کے لیے جانا جاتا ہے، نے بہتر آرام کو فروغ دینے کا ایک انوکھا طریقہ نکالا ہے: نیند کو مقابلہ بنا دیا۔ ٹوکیو میں درجنوں شرکاء نے ”میٹ ریس“ نامی مقابلے میں حصہ لیا، جہاں انہیں نیند ٹریک کرنے والے آلات پہنائے گئے اور آرام دہ گدوں پر جلدی اور گہری نیند سونے کا چیلنج دیا گیا۔
گدے بنانے والی کمپنی کوالا سلیپ جاپان کے زیرِ اہتمام اس مقابلے میں ۲ ملین ین (تقریباً ۱۴ ہزار ڈالر) سے زیادہ کا پہلا انعام رکھا گیا۔ شرکاء کو سونے کے لیے ۹۰ منٹ تک کا وقت دیا گیا، جبکہ مانیٹرز ان کی نیند کو ٹریک کرتے رہے۔ بعد میں کوالا سلیپ جاپان کے تخلیقی ڈائریکٹر ریچیرو ناکاما نے کہا: ”جاپان کو اکثر نیند کی کمی کا شکار ملک کہا جاتا ہے، اور یہاں کے لوگ بہت محنتی ہیں۔“
او ای سی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق جاپانیوں نے ۲۰۲۱ء میں روزانہ اوسطاً صرف سات گھنٹے ۲۴ منٹ نیند لی، جو ڈیٹاسیٹ میں شامل او ای سی ڈی ممالک میں سب سے کم ہے۔ مقابلے کی فاتح، جو ”سوئی میئی“ کا عرفی نام استعمال کرتی ہیں، نے کہا کہ وہ انعامی رقم گھر بدلنے کے اخراجات اور نئے بستر کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اپنا مقام و مرتبہ برقرار رکھنے کے لیے اضافی محنت کرتے ہیں، جبکہ کمپنیوں کی دوڑ بھی ملازمین سے اضافی وقت کام لینے کا سبب بنتی ہے۔ نتیجتاً لوگوں کو آرام کا مناسب موقع نہیں ملتا اور ذہنی دباؤ، بے خوابی اور دیگر طبی مسائل سامنے آتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ