اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ

israel civil war d


تل ابیب،
ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی اختلافات گہرے ہو رہے ہیں اور حکومت کے خلاف برہمی بڑھ رہی ہے۔ یہ عوامل ملک کو خانہ جنگی یا ریاست کے خاتمے کے خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔
آزاد تحقیقاتی نیوز آؤٹ لیٹ ڈراپ سائٹ نیوز نے رپورٹ سے واقف دو امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ”اندرونی دراڑ“ کے عنوان سے یہ تجزیہ اگست میں سی آئی اے کے ریڈ سیل نے تیار کیا تھا۔ یہ ایک ماہر یونٹ ہے جسے انٹیلی جنس کے مروجہ اتفاقِ رائے کو چیلنج کرنے اور متبادل اسٹریٹجک تناظر فراہم کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔
اس جائزے میں ۲۷ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ملک کو درپیش اندرونی دباؤ کا انتہائی غیر مستحکم منظرنامہ پیش کیا گیا ہے۔ اہم نکات میں شدید اقتصادی گراوٹ، دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ، مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے تشدد، اور الٹرا آرتھوڈوکس مردوں کو لازمی فوجی سروس سے دی گئی چھوٹ پر شدید سماجی غصہ شامل ہیں۔
رپورٹ میں وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی اقتدار میں رہنے کی جدوجہد کو آئینی اور سیاسی عدم استحکام کا بنیادی محرک قرار دیا گیا ہے۔ غزہ میں برسوں کی نسل کشی اور لبنان و ایران میں جاری جنگوں نے پہلے سے موجود سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ طویل تعیناتی کے بعد لوٹنے والے ریزرو فوجیوں کی بڑی تعداد شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہے۔ فوجی بھرتی ملک کی سب سے سنگین اندرونی کمزوریوں میں سے ایک بن چکی ہے، کیونکہ ریزرو فوجیوں کی بار بار طلبی نے الٹرا آرتھوڈوکس برادری کو دی گئی مکمل چھوٹ پر عوامی غصے کو ہوا دی ہے۔
ان اندرونی دباؤ کو مزید بڑھاتے ہوئے سی آئی اے کی دستاویز نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامی سفارتی تنہائی، جس کی علامت امریکہ کے اندر گھٹتی ہوئی حمایت ہے، اندرونی عدم استحکام کو تیز کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ