کیمسٹری کا نوبیل انعام ہنری کاگن اور کینسو سوئی کے نام، مالیکیولز کا صدیوں پرانا راز حل

chem 71026 d


اسٹاک ہوم،
۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام برائے کیمسٹری فرانس کے سائنس داں ہنری بی کاگن اور جاپان کے کینسو سوئی کو دیا گیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے بدھ ۷ اکتوبر کو اعلان کیا کہ دونوں سائنس دانوں کو ”غیر متناسب نامیاتی ترکیب میں نان لائنئر اثرات اور خودکار عمل کی دریافت“ پر یہ اعزاز دیا گیا۔
ان کی تحقیق نے اس سائنسی معمے کو سمجھنے میں اہم پیش رفت کی کہ بعض مالیکیولز کی دو آئینہ نما شکلوں میں سے جاندار نظام تقریباً ہمیشہ صرف ایک شکل کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مالیکیولر خصوصیت ہوموکائریلیٹی کہلاتی ہے۔ بعض مالیکیولز ایک دوسرے کی آئینہ دار شکلوں میں موجود ہو سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسان کا دایاں اور بایاں ہاتھ ایک دوسرے کا عکس تو ہوتے ہیں مگر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کیمیائی زبان میں ایسے مالیکیولز کو کائیرل کہا جاتا ہے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق زندگی کے بنیادی کیمیائی اجزا، جن میں امینو ایسڈز بھی شامل ہیں، ایسی شکلوں میں موجود ہوتے ہیں، مگر حیاتیاتی نظام عموماً ان میں سے ایک ہی شکل کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ سوال ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کیمسٹری کے اہم معموں میں شامل تھا کہ قدرت کسی مالیکیول کی ایک مخصوص آئینہ نما شکل کو دوسری پر ترجیح کیسے دیتی ہے۔ کاگن اور سوئی کی تحقیق نے کیمیائی تعاملات کو اس انداز میں کنٹرول کرنے کے راستے دکھائے کہ ایک مخصوص کائیرل شکل دوسری کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں پیدا ہو سکے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق اس کام نے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ہوموکائیرلیٹی خود بخود کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔
ہنری کاگن نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ایسے کیمیائی تعاملات پر کام کیا جن کے ذریعے کسی مالیکیول کے معمولی ابتدائی عدم توازن کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے کام نے دکھایا کہ کسی ردعمل میں ایک آئینہ نما شکل کی معمولی برتری کو کس طرح نمایاں کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد کینسو سوئی نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں خودکار عمل یا آٹوکیٹالیسس سے متعلق تجربات کے ذریعے اس میدان میں مزید اہم پیش رفت کی۔ سوئی کے نام سے منسوب سوئی ری ایکشن نے ایک مخصوص کائیرل مالیکیول کو ایسے کیٹالسٹ کے طور پر استعمال کرنے کا راستہ دکھایا جو اسی ساخت والے مزید مالیکیولز کی تشکیل کو فروغ دے سکتا ہے۔
نوبیل کمیٹی برائے کیمسٹری کے چیئرمین ہائنر لنکے نے کہا کہ ہنری کاگن اور کینسو سوئی نے اس ایک صدی سے زائد پرانے کیمیائی معمے کا حل پیش کیا ہے کہ ہوموکائیرلیٹی خود بخود کیسے وجود میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے دونوں سائنس دانوں کے تیار کردہ کیمیائی تعاملات کو غیر معمولی قرار دیا۔
اس تحقیق کی اہمیت صرف بنیادی سائنس تک محدود نہیں۔ مالیکیول کی دو آئینہ نما شکلیں کیمیائی طور پر بظاہر ایک جیسی ہو سکتی ہیں، لیکن انسانی جسم میں ان کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔ دوا تیار کرتے وقت سائنس دانوں کے لیے یہ طے کرنا ضروری ہوتا ہے کہ مطلوبہ اثر پیدا کرنے والی شکل کون سی ہے۔ ایک شکل علاج کے لیے مفید ہو سکتی ہے جبکہ دوسری کم مؤثر یا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کائیرل کیمسٹری جدید ادویہ سازی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
اس فرق کی اہمیت کو تھیلیڈومائڈ کے تاریخی معاملے سے بھی سمجھا جاتا ہے۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے آغاز میں اس دوا سے متعلق شدید پیدائشی نقائص کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ بعد کی تحقیق میں مالیکیول کی مختلف آئینہ نما شکلوں کے حیاتیاتی اثرات پر بھی توجہ گئی۔ اس واقعے نے ادویہ سازی میں مالیکیولر ساخت اور کائیرلیٹی کو سمجھنے کی اہمیت مزید نمایاں کر دی۔
ہنری بی کاگن ۹۵ سال کے ہیں اور ان کا تعلق فرانس کی یونیورسٹی پیرس-سود سے رہا ہے۔ وہ غیر متناسب نامیاتی ترکیب اور کائیرل کیمسٹری کے میدان میں کئی دہائیوں سے نمایاں کام کرتے رہے ہیں۔ کینسو سوئی ۷۶ سال کے ہیں اور ٹوکیو یونیورسٹی آف سائنس سے وابستہ رہے ہیں۔ انعام کے اعلان کے وقت نوبیل کمیٹی سے فون پر گفتگو میں سوئی نے کہا کہ وہ اس خبر سے بہت پرجوش ہیں اور اسے اپنی زندگی کے ”سب سے پُرجوش دنوں“ میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا تو وہ گھر کے قریب خریداری کر رہے تھے۔
اس سال کیمسٹری کا نوبیل انعام نوبیل ہفتے کا تیسرا بڑا سائنسی انعام ہے۔ اس سے قبل طب اور فزکس کے انعامات کا اعلان ہو چکا ہے، جبکہ ادب اور امن کے انعامات کے اعلانات بھی اسی ہفتے ہونے ہیں۔ کاگن اور سوئی ۱۲ ملین سویڈش کرونا کی انعامی رقم مشترکہ طور پر حاصل کریں گے، جبکہ انہیں طلائی تمغہ اور سند بھی دی جائے گی۔ نوبیل انعامات کی رسمی تقریب ۱۰ دسمبر کو اسٹاک ہوم میں ہوگی، جو الفریڈ نوبیل کی وفات کی سالگرہ بھی ہے۔

متعلقہ پوسٹ