واشنگٹن/تہران،
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیجی اور علاقائی لیڈران کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ تہران پر واشنگٹن کے شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کیلئے ”بڑے پیمانے پر پیش رفت“ ہو رہی ہے۔ منگل کی اس ملاقات میں متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اردن، ترکی، شام اور مصر کے لیڈران شریک تھے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے سفیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اسی دن کے اوائل میں ایرانی ثالثوں سے بات چیت کی۔ ٹرمپ نے کہا: ”ایرانی ان دونوں کا بہت احترام کرتے ہیں… میرا خیال ہے کہ ڈیل کی راہ میں بہت پیش رفت ہو رہی ہے۔“ شیخ عبداللہ نے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی اور کشیدگی میں کمی کیلئے یو اے ای کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی معیشت ”واقعی خراب حالت“ میں ہے اور واشنگٹن ایران کو مالیاتی طور پر ”مکمل طور پر تنہا“ کر رہا ہے تاکہ تہران کو ”بہت دیر ہونے سے پہلے“ معاہدے کی طرف لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے ایرانی بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور تیل کی ترسیل بحال کرنے میں مدد دے رہی ہے۔
ایران میں غیر واضح قیادت
ٹرمپ نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ایران کو کون چلا رہا ہے، اور دعویٰ کیا کہ ایرانی اعلیٰ قیادت کی دو بالائی سطحیں ”ختم ہو چکی ہیں۔“ ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے ہم منصبوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ علیحدہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کو یورینیم کی افزودگی میں نمایاں کمی کرنی ہوگی۔ انہوں نے صدر پزیشکیان اور وزیرِ خارجہ عراقچی کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کی تصدیق کی۔
ایران جنگ میں ۸۱ امریکی طیارے تباہ یا متاثر: کانگریس کی رپورٹ
۵ اکتوبر کو جاری کانگریس ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق ۲۸ فروری کو ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک ۸۱ سے زائد امریکی فوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں ۴۵ ایم کیو-۹ ریپر ڈرونز شامل ہیں، جو پچھلی رپورٹ کے ۲۴ کے مقابلے تیزی سے بڑھے ہیں۔ متاثرہ طیاروں میں ۱۲ ایف-۱۵ ای اسٹرائیک ایگلز شامل ہیں، جن میں سے ۳ کو مارچ میں کویتی فضائی دفاع نے فرینڈلی فائر کے واقعے میں مار گرایا تھا۔ دیگر نقصانات میں ایک ایف-۳۵ اے لائٹننگ II، ایک ای-۳ سینٹری، ایک ایچ ایچ-۶۰ ڈبلیو ہیلی کاپٹر اور کئی چھوٹے طیارے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کچھ متاثرہ طیارے بعد میں دوبارہ سروس میں لوٹ آئے۔
امریکہ کے ایران جنگ کے اخراجات ۴۴ ارب ڈالر کے قریب
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یو ایس سینٹرل کمانڈ کے تخمینے کے تحت ۳ ستمبر تک ایران جنگ کے مجموعی اخراجات ۴۳.۶ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ ان میں گولہ بارود کیلئے ۱.۲۸ ارب ڈالر اور ساز و سامان کے نقصانات کیلئے ۳.۴ ارب ڈالر شامل ہیں۔ کانگریس کے بجٹ آفس نے اس سے قبل یکم اگست تک ساز و سامان کی متبادل لاگت کا تخمینہ ۱.۹ سے ۳.۳ ارب ڈالر لگایا تھا۔
ایران آبنائے ہرمز کا ’مکمل کنٹرول کھو چکا ہے‘: روبیو
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا ”مکمل کنٹرول کھو چکا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے، جبکہ تہران کی معیشت کو ”مکمل زوال“ کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے علیحدہ طور پر کہا کہ ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر یا اس سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے وزیرِ پیٹرولیم نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے کہ ملک کے پاس ”نہ معیشت ہے، نہ تیل ہے، اور نہ ہی کچھ اور۔“

