اسرائیل کی ڈیڈ لائن ختم، برطانیہ نے مشرقی یروشلم کا قونصل خانہ بند کرنے سے انکار کردیا

uk consulate in jarusalem1791265743 0


لندن: برطانیہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اپنے قونصل خانے کو بند کرنے کے بجائے اس کا نام تبدیل کرکے ’یو کے مشن، یروشلم‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ محدود تعداد میں سفارت کار اسی عمارت میں کام جاری رکھیں گے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قونصل خانہ بند کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود قونصل خانے کی عمارت بند نہیں ہوگی۔ تاہم اس کی سرگرمیاں محدود پیمانے پر جاری رہیں گی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار کے مطابق اسرائیل نے برطانیہ کو عمارت سے محدود سطح پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، جس کے لیے 7 برطانوی سفارت کار وہاں موجود رہیں گے۔ ان کے مطابق برطانوی قونصل جنرل سمیت تقریباً 20 سفارت کار اپنی ذمہ داریاں ختم کرکے اسرائیل سے روانہ ہوجائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے صحافیوں نے جمعرات کو دیکھا کہ عمارت سے ’برٹش قونصلیٹ جنرل‘ کی تختی اور قونصلر سیکشن کا نشان ہٹا دیا گیا، تاہم عمارت پر برطانوی پرچم بدستور لہراتا رہا۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ اسرائیل کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا کہ اسے قونصل خانہ بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ یہ قونصل خانہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے میں واقع ہے، جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق نیا یو کے مشن، یروشلم فلسطینی عوام کے ساتھ کام جاری رکھے گا اور اہم خدمات بھی فراہم کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے حالیہ ہفتوں میں کچھ عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلایا تھا، تاہم اب وہ علاقے میں اپنی موجودگی دوبارہ بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔

قونصل خانے کی بندش کا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ان پابندیوں میں وہاں تیار ہونے والی بعض مصنوعات کی درآمد پر پابندی بھی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی بھی اقدام بغیر مناسب جوابی کارروائی کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔

برطانیہ نے اس تنازع کے جواب میں فی الحال اسرائیلی سفارت کاروں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے۔

مشرقِ یروشلم میں برطانوی موجودگی تقریباً 200 سال پرانی ہے۔ موجودہ قونصل خانہ یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں سے برطانیہ کے تعلقات اور قونصلر خدمات سے متعلق امور دیکھتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کا تل ابیب میں قائم برطانوی سفارت خانے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کا مرکز ہے۔

حالیہ تنازع کے باوجود برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس شعبوں میں تعاون برقرار ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ