کرناٹک ایس آئی آر: ڈی سی نے کہا

Karnatka SIR


کرناٹک کے چک منگلور میں 28 جولائی کو ایس آئی آر کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایس وی ای ای پی سیل کی جانب سے منعقد رنگولی مقابلے کے دوران ہندوستان کے نقشے کی رنگولی بناتی ہوئی ایک طالبہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک کے داونگیرے کے ضلع ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران ضلع کی سات اسمبلی سیٹوں میں مجموعی طور پر 2,325 فارم 7 درخواستیں نام ہٹانے کی درخواست کے لیے داخل کی گئی تھیں اور یہ تمام درخواستیں آن لائن دائر کی گئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ان درخواستوں میں سے 1,106 کو خارج کر دیا گیا۔

نئی دہلی:کرناٹک کے داونگیرے ضلع میں ایس آئی آر کے دوران مسودہ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ پر ووٹر لسٹ سے تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا۔

یہ بات ضلع ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) جی ایم گنگادھر سوامی نے منگل (6 اکتوبر) کو کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکام کو ازخود نوٹس لے کر ووٹروں کے نام ہٹانے کا اختیار نہیں ہے۔

دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایس آئی آرعمل کے دوران ضلع کی سات اسمبلی سیٹوں میں نام ہٹانے کی درخواست کے لیے مجموعی طور پر 2,325 فارم 7 درخواستیں داخل کی گئی تھیں اور یہ تمام درخواستیں آن لائن دائر کی گئی تھیں۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 2,325 فارم 7 درخواستوں میں سے 1,106 کو خارج کر دیا گیا۔ جن درخواستوں کو منظوری دی گئی، ان میں سے اصل میں صرف 112 ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے۔ ان میں پانچ نیپال کے شہری تھے اور ایک شخص دبئی میں رہتا تھا، جبکہ باقی ووٹروں کی یا تو موت ہو چکی تھی یا وہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے۔

گنگادھر سوامی نے کہا،’ضلع کے کسی بھی پولنگ بوتھ کے حلقہ میں فارم 7 کی درخواستیں اجتماعی طور پر جمع نہیں کی گئی تھیں۔ متعلقہ اسمبلی حلقوں کے الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) نے اس سلسلے میں تصدیقی خطوط جمع کرائے ہیں۔ اس لیے ضلع میں اس معاملے میں کوئی کیس درج نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ضلع میں اب تک فارم 6، 6 اے، 7 اور 8 کی مجموعی طور پر 24,012 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں نئے ووٹر کے رجسٹریشن، رہائش کی جگہ میں تبدیلی، اعتراضات اور اصلاحات سے متعلق درخواستیں شامل ہیں۔ نئے ووٹر کے رجسٹریشن کے لیے موصول ہونے والی 19,118 درخواستوں میں سے 16,886 کو منظوری دی گئی ہے۔

داونگیرے میں 7,086 افراد کو نوٹس بھیجے گئے

ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق، داونگیرے میں مجموعی طور پر 12,98,219 ووٹر ہیں۔ ایس آئی آر کے عمل کے تحت 7,086 لوگوں کو نوٹس بھیجے گئے۔

گنگادھر سوامی نے بتایا کہ 29 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کو بغیر سماعت یا دستاویز جمع کرائے نوٹس سے متعلق معاملوں کو بند کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم، داونگیرے میں اب تک 6,733 معاملوں میں سماعت ہو چکی ہے، جبکہ 353 لوگوں نے نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

الیکشن کمیشن نے اب تک ان تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا ہے۔ اس کے بجائے، کمیشن کا آئی ٹی محکمہ اپنے ای آر او نیٹ پورٹل میں نئے فیچر فعال کرنے کے بعد تیار کیے گئے ایک ویڈیو کے ذریعے افسران کو طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانکاری دے رہا ہے۔ ان نئے فیچر کی مدد سے ای آر او بغیر سماعت کی تاریخ مقرر کیے نوٹس جاری کر سکتے ہیں اور ان معاملوں کو نمٹا سکتے ہیں جن میں ووٹروں نے دستاویز جمع نہیں کیے ہیں۔

جن ووٹروں کو ’منطقی تضادات‘ اور ’میپنگ نہ ہونے‘ کی بنیاد پر نوٹس بھیجے گئے ہیں، ان کے لیے الیکشن کمیشن نے 12 قابل قبول دستاویز کی فہرست جاری کی ہے۔

ایک اکتوبر کو ریکارڈ کیے گئے نئے ای آر او نیٹ پورٹل سے متعلق ویڈیو کے مطابق، اگر کسی ووٹر کو نوٹس بھیجا گیا ہے اور بوتھ لیول افسر (بی ایل او) نے دستاویز اپلوڈ کر دیے ہیں تو ای آر او بغیر سماعت کے حکم جاری کیے حتمی ووٹر لسٹ کے لیے اس ووٹر کو ’فاؤنڈ اوکے‘قرار دے سکتا ہے۔ تاہم، کچھ ای آر او تحریری حکم کے بغیر اپنے صوابدیدی اختیار کا استعمال کرنے کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

بیجاپور

کرناٹک کے بیجاپور ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور ضلع الیکشن افسر (ڈی ای او) کے آنند نے سنیچر (3 اکتوبر) کو کم از کم آٹھ رہائشیوں کی جانب سے دیے گئے میمورنڈم کے بعد جانچ کا حکم دیا ہے۔

ان لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ جاری ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے ان کے نام ہٹانے کے لیے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹس کا استعمال کیا گیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ