نوبیل امن انعام کی فاتح نوی پِلے کا ٹرمپ کے ساتھ انعام "شیئر” کرنے پر مذاق، انعام بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے نام

nob 091026 d


نیورمبرگ (انٹرنیشنل ڈیسک): ۲۰۲۶ء کا نوبیل امن انعام جیتنے والی جنوبی افریقی جج نوی پِلے نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر مذاق کیا کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل اگنیس کالمارڈ کی ایکس پر شیئر کردہ ویڈیو میں پِلے نے سامعین سے کہا کہ اگر وہ تھوڑا اور تالی بجائیں تو وہ یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ شیئر کر سکتی ہیں۔
کالمارڈ کے مطابق انعام کا اعلان ہوا تو وہ نیورمبرگ ٹرائلز کے مقام پر پِلے کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اس انعام کیلئے پِلے سے زیادہ اہل کسی کو نہیں سمجھتیں۔ پِلے نے کہا کہ ان کا آخری کام غزہ پر رپورٹ پیش کرنا تھا، جس میں وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نسل کشی قرار دیا گیا۔
پِلے نے جولائی ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء میں رخصتی تک مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی صدارت کی۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنرل اسمبلی کمیٹی کو نتائج پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کمیشن کے قانونی تجزیے نے غزہ میں نسل کشی کیلئے اسرائیل کی ذمہ داری قائم کی ہے۔ ۸۵ سالہ پِلے کے مطابق وہ میانمار کے خلاف گیمبیا کے مقدمے میں ایڈہاک جج رہیں گی اور نیورمبرگ پرنسپلز اکیڈمی کی حمایت جاری رکھیں گی۔
جمعہ کو نیورمبرگ کے تاریخی کمرۂ عدالت میں، جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد نازی رہنماؤں پر مقدمہ چلا تھا، پریس کانفرنس میں انہوں نے انعام بین الاقوامی جرائم کے تمام متاثرین کے نام وقف کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق سیاسی حملوں کی زد میں ہیں اور سیاسی رہنماؤں پر انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگ سے باز رہنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان، اسرائیل اور کمبوڈیا نے مختلف تنازعات کے حل میں کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کو نامزد کرنے کا کہا ہے، جبکہ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ خود کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ