مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین، دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور دیگر لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی تصویریں۔تصویر:ایکس/دی وائر (کینوا کی مدد سے)
جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے درمیان بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لینے کی کارروائی جاری ہے۔ احتجاج میں شامل ہونے جا رہی آئیسا کی صدر نہا بورا اور دیگر مظاہرین کو صفدرجنگ ایئرپورٹ فلائی اوور پر روک کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ نہا دیگر مظاہرین کے ساتھ گرین پارک سے جنتر منتر کے لیے مارچ کر رہی تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے حراست کی ایسی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
نئی دہلی:دہلی میںسنیچر (10اکتوبر) کو مختلف تنظیموں کی اپیل پر مجوزہ احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے سخت کارروائی کی ہے۔ پوری نئی دہلی میں لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہے اور مظاہرین کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر رہنماؤں اور طلبہ کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا)کی صدر نہا بورا اور دیگر مظاہرین کو صفدرجنگ ایئرپورٹ فلائی اوور پر روک کر حراست میں لے لیا گیا۔ نہا دیگر مظاہرین کے ساتھ گرین پارک سے جنتر منتر کے لیے مارچ کر رہی تھیں۔
سی پی آئی(ایم ایل)لبریشن نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے، جس میں دہلی پولیس نہا بورا کو حراست میں لیتی نظر آ رہی ہے۔ اس دوران دیگر مظاہرین پولیس کی بس کو روکتے نظر آ رہے ہیں۔
🚨🚨 AISA President Neha and others were stopped at Safdarjung airport flyover and are being detained.
Modi-Shah cannot cage our resistance!
We shall fight, we shall win!
CEC Gyanesh Kumar must resign!#jantarmantar #eci #protest #cpiml #nehabora https://t.co/mmX9fkO8Hs
— CPIML Liberation (@cpimlliberation) October 10, 2026
نہا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لوگوں سے تحریک جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
We have been detained. But it does not matter.
To my fellow Gen Z: This is our 1942. Their jails can hold a few of us but not all of us.
Wherever any of us is stopped today, we sit down right there and begin. Every corner becomes Jantar Mantar. https://t.co/nblf0tYnzA
— Neha (@neha_aisa) October 10, 2026
’اگر ایک سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے، تو ملک میں عام آدمی کی کیا حالت ہوگی؟‘-جان برٹاس
اس دوران راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس نے کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کو دہلی میں پولیس وین میں گھمانے پر سوال اٹھایا ہے۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں برٹاس نے کہا کہ چھترسال اسٹیڈیم میں 30 سے 45 منٹ تک رکھنے کے بعد دہلی پولیس انہیں، کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اور کیرالہ کے سابق وزیر خزانہ کے این بالگوپال کو دوبارہ پولیس وین میں بٹھا کر قومی راجدھانی میں گھما رہی ہے۔
برٹاس نے سوال کیا،’اگر ایک سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو اس ملک میں عام آدمی کی کیا حالت ہوگی؟‘
اس سے پہلے وجین کو کیرالہ ہاؤس کے باہر سی پی آئی(ایم)کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔
“After holding us at Chhatrasal Stadium for 30–45 minutes, the Delhi Police have put us back in the jeep and taken us away again , we don’t even know where! If this is how a former CM is treated, what will be the situation of the common man in this country?”
#gyaneshkmuarresign #savedemocracy
— John Brittas (@JohnBrittas) October 10, 2026
پرامن مظاہرین کی گرفتاری پر ٹی ایم سی نے اٹھائے سوال
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،’ہمارے جمہوری نظام میں پرامن مظاہرین کو گرفتار کرنا کب سے نارمل بات ہو گئی؟ جب پرامن اختلاف رائے کا جواب بات چیت کے بجائے گرفتاریوں سے دیا جاتا ہے، تو اس سے ہماری جمہوری اقدار کی صورتحال پرگمبھیرسوال کھڑے ہوتے ہیں۔‘
پارٹی نے مزید لکھا،’مودی-شاہ کی جوڑی بھلے ہی لگاتار حدیں پار کرتی رہے، لیکن کوئی بھی حکومت جوابدہی سے اوپر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اقتدار مستقل ہے۔ نریندر مودی، یہ یاد رکھیے! جمہوریت کے لیے یہ ایک سیاہ دن ہے۔‘
پارٹی کی صدر ممتا بنرجی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
.@DelhiPolice HOW DARE YOU?
Since when did arresting peaceful protesters become the norm in our democracy?
When peaceful dissent is met with arrests instead of dialogue, it raises serious questions about the state of our democratic values.
The Mo–Shah duo may continue to push the limits, but no government is above accountability, and no power is permanent.
@narendramodi, REMEMBER THAT!
A dark day for democracy.
A reminder that the fight to protect it must never stop…#SaveDemocracy
— All India Trinamool Congress (@AITCofficial) October 10, 2026
عآپ نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا
عام آدمی پارٹی(عآپ)کے سربراہ اروند کیجریوال کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حراست میں لیے جانے سے پہلے کیجریوال نے کہا،’مودی اور شاہ دہلی میں تانا شاہی کا ناچ کر رہے ہیں۔ ہر کونے پر پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے تک کی اجازت نہیں ہے۔‘
عام آدمی پارٹی نے ایکس پر لکھا،’شاید وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ بھول گئے ہیں کہ سڑکوں پر کیلیں بچھانے کاحشر کیا ہوتا ہے۔ مودی حکومت ووٹ چور گیانیش کمار کو بچانا بند کرے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب مودی جی کو دوبارہ ٹی وی پر آ کر کہنا پڑے گا کہ ’شاید میری تپسیا میں کچھ کمی رہ گئی تھی۔‘
پارٹی نے مزید لکھا،’یہ جمہوریت ہے۔ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ بابا صاحب کے اس ملک میں بی جے پی کی آمریت نہیں چلے گی‘!
’جنتر منتر اب ایک نئی بیداری اور شعور کی علامت ہے:‘اکھلیش یادو
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایکس پر لکھا،’ہم ملک کے نوجوانوں کی توانائی کے ساتھ ہیں۔ اگر بی جے پی حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ طاقت کے بل پر عوام کو روک لے گی تو یہ اس کی اور بھی بڑی بھول ثابت ہوگی۔ جنتر منتر اب محض ایک جگہ کا نام نہیں، بلکہ ایک نئے شعور اور بیداری کی علامت بن گیا ہے۔ اگر حکومت نے تحریک چلانے والوں کو روکا تو ملک میں ہر جگہ جنتر منتر بن جائے گا۔‘
किसीके रोके नहीं रुकेगा
अब दिल्ली में देश जुटेगा!हम देश की युवा ऊर्जा के साथ हैं। भाजपा सरकार अगर समझ रही है कि वो ताक़त के बल पर जनता को रोक लेगी तो ये उसकी और भी बड़ी भूल साबित होगी। ‘जंतर-मंतर’ अब एक जगह का नाम नहीं, एक नई चेतना और जागरण का प्रतीक बन गया है। अगर सरकार ने आंदोलनकारियों को रोका तो देश में हर जगह जंतर-मंतर बन जाएगा।
माना बादशाहों का बंदोबस्त है बख़्तरबंद
पर उन्होंने देखा न नौजवानों का दमख़म
यहाँ हौसलों की भी तैयारी है चाकचौबंद
हैं साथ सब, मानकर इसको अंतिम जंग— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) October 10, 2026
چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد سپریم کورٹ کے وکیلوں کی رہائی: رپورٹ
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا(سی جے آئی)سوریہ کانت کی جانب سے حکام سے بات کرنے کے بعد حراست میں لیے گئے وکیلوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن(ایس سی بی اے)، سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن اور سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے وکیلوں کو حراست میں لیے جانے کے بارے میں چیف جسٹس کو جانکاری دی تھی۔
دہلی پولیس نے راج گھاٹ پر ریوولیوشنری ورکرز پارٹی آف انڈیااور دیشا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ارکان کو حراست میں لیا
صحافی پیوش رائے نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے، جس میں نئی دہلی کے راج گھاٹ پر دہلی پولیس ریوولیوشنری ورکرز پارٹی آف انڈیا اور دیشا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ارکان کو زبردستی حراست میں لیتی دکھائی دے رہی ہے۔
At Rajghat in Delhi. Members of Revolutionary workers party of India and Disha students organisation were brutally detained. https://t.co/atlLnxpQmz
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) October 10, 2026

