ایمرجنسی یاگورنر راج کسی صورت قبول نہیں، سہیل آفریدی کا اعلان

1001368614.webp


ایمرجنسی یاگورنر راج کسی صورت قبول نہیں، سہیل آفریدی کا اعلان

13 اکتوبر کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، وزیر اعلی کے پی کے

چارسدہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے چارسدہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ 11 اکتوبر سے ملک بھر سے لوگ صوابی آنا شروع ہوں گے اور 13 اکتوبر کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کا جذبہ روز بروز بڑھ رہا ہے، ہماری حکومت بانی پی ٹی آئی پر قربان ہے اور اب بات کرسی سے آگے جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن اپنے حقوق کے لیے نکلیں اور ہم ہر صورت ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی چارسدہ چوک پہنچے، جہاں انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چارسدہ میں چھاپے مار کر لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اچھا ہوا نادیہ کو چھوڑ دیا گیا، ہم کسی صورت اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی دوسرے کلچر کو برداشت نہیں کریں گے۔ بعض لوگ سیاست میں کام نہ ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہاں غنڈے پال رکھے ہیں جو پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ نامعلوم لوگ ہمارے لیے نامعلوم نہیں ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوابی سے اگلی منزل تک پرامن طریقے سے جائیں گے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم صوبے میں کسی صورت ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ ان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں دستخط کرنے کا کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں صرف بانی پی ٹی آئی کی پالیسی چلے گی اور وہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے مقصد سے ہٹا دے۔

انہوں نے خطاب کے دوران کہا کہ یا تو انہیں گولی مار دی جائے یا وہ جیت کر آئیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 13 اکتوبر کے بعد وہ ہوں یا نہ ہوں، کارکنوں کو اپنے حقوق کے لیے نکلنا ہوگا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ