اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کے اتحاد کو بھاری نقصان، مگر ’بدترین شکست‘ کا دعویٰ ابھی حتمی نتائج سے تصدیق شدہ نہیں

IMG 20261027 WA2412


تل ابیو: اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو بھاری سیاسی نقصان ہوا ہے، کیونکہ ابتدائی نتائج کے مطابق اس کا اتحاد پچھلی کنیست کی 68 نشستوں سے گھٹ کر تقریباً 52 سے 56 نشستوں تک آ گیا ہے۔ تاہم، سرکاری جزوی گنتی میں نیتن یاہو کا اتحاد اب بھی اپنے حریف گاڈی آئزنکوٹ سے آگے ہے، اس لیے اسے ابھی واضح شکست قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اسرائیلی ٹی وی چینلز کے ابتدائی سروے نے نیتن یاہو کے اتحاد کو 51 سے 52 نشستیں اور آئزنکوٹ کے اتحاد کو 49 نشستیں دکھائی تھیں۔ بعد ازاں مرکزی الیکشن کمیشن کی جزوی گنتی میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 54 سے 56 نشستوں کی برتری مل گئی، جبکہ آئزنکوٹ کے اتحاد کو 48 سے 49 نشستیں مل رہی ہیں۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ، کنیست، میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ نیتن یاہو کا اتحاد اس حد سے کئی نشستیں پیچھے ہے، اس لیے وہ موجودہ صورتحال میں اکیلے حکومت نہیں بنا سکتا۔
نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اب بھی سب سے بڑی واحد جماعت ہونے کا امکان رکھتی ہے، جبکہ عرب جماعتوں کی نمائندگی 17 سے 19 نشستوں تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جو ان کی تاریخی طور پر سب سے بڑی کامیابی ہے۔ عرب جماعتوں کی حمایت آئزنکوٹ کے لیے حکومت بنانے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نیتن یاہو کے لیے واضح طور پر زبردست سیاسی نقصان ہیں، کیونکہ ان کے اتحاد کی نشستیں 68 سے کم ہو کر 53 کے قریب آ گئی ہیں اور وہ اکثریت سے محروم ہو گئے ہیں۔ تاہم، ووٹوں کی گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی، فوجی ووٹ سمیت باقی ووٹ شامل ہونے کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے، اور حتمی نتائج کے بعد ہی اسے شکست یا کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ