خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق
13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق۔
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی و سیکیورٹی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور اہم حکومتی و سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔
صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منگل 13 اکتوبر کو بلائے جائیں گے جن میں اہم آئینی اقدامات کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کابینہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کیے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ سے منظوری کے بعد اس معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے، جہاں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے متعلقہ آئینی اقدامات کی منظوری لینے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سابق قبائلی علاقوں کی آئینی حیثیت بحال کرنے سے متعلق اہم قانون سازی کا امکان بھی ظاہر کیاگیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ
دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں سابق فاٹا کے8 اضلاع بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کے بعد فیصلے میں تبدیلی کا بھی امکان ہے۔

