ایرانی میزائل دوگنا فاصلہ تک کیسے گیا، اسرائیلیوں کو سیٹلائٹ لانچر ٹیکنالوجی یا سوویت میزائل کی نئی نسل کے استعمال کا شبہ

news 1774205977 8112



news 1774205977 8112

(ویب ڈیسک) ایران کے میزائل امریکیوں اور اسرائیلیوں کے اندازے سے زیادہ خطرناک کیوں ثابت ہو رہے ہیں اور یہ میزائل زیادہ دور تک کیسے جا رہے ہیں، اسرائیل کی فوج کے سابق ائیر ڈیفینس چیف نے خبردار کر دیا کہ یہ ایران کے میزائل لانچرز کی خاص ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔ دوسرا شبہ یہ سامنے آیا کہ ایران کے پاس سابق سوویت یونین کے آر ستائیس میزائل کی نئی نسل کا میزائل موجود ہے۔

 آئی ڈی ایف کے سابق ایئر ڈیفنس چیف ن  بریگیڈیئر جنرل۔ رن کوچاو نے خبردار کیا ہے کہ ایران میزائل رینج کو دوگنا کرنے کے لیے سیٹلائٹ لانچ کرنے والے  راکٹوں جیسے ٹو سٹیج میزائل لانچر استعمال کر رہا ہے۔
ایران کی جانب سے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج کو راتوں رات 2,000 سے 4,000 کلومیٹر تک دگنا کرنے کے بعد، رن کوچاو نے  اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ دی یروشلم پوسٹ  کو بتایا کہ ایرانی کی حالیہ لانچوں نے ایک خفیہ پروگرام کو بے نقاب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ایرانی میزائل یورپ کے اندر گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں، نیتن یاہو کی یورپی ملکوں کو وارننگ

اسرائیل کی فوج کے ائیر ڈیفینس کے سابق سربراہ  بریگیڈیئر جنرل۔ رن کوچاو نے اتوار کو دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ  یران کی جانب سے تقریباً 4,000 کلومیٹر کے فاصلے کے لیے ایک بیلسٹک میزائل چلانے کے تجربہ  نے ایرانی میزائلوں کی  2000 کلومیٹر کی رینج کے انداازوں  کو توڑ کر رکھ دیا گیا۔  دنیا کے بیشتر افراد کو امید تھی کہ  ایران 2000 کلومیٹر تک رینج  کے تحت رہے گا۔  بریگیڈیئر جنرل رن کوچاو نے نے کہا، یہ ممکنہ طور پر یہ ایک  ایسے بیلسٹک میزائل کے استعمال سے آیا ہے جو کہ دو مرحلوں پر مشتمل، سیٹلائٹ کی طرح لانچنگ کے عمل کا استعمال کرتے ہوئے  کام کرتا ہے۔

کوچاو نے کہا کہ ڈیگو گارسیا پر بھیجے گئے میزائل کے لانچ نے ” ایران کے میزائلوں کی پہلے سامنے آ چکی صلاحیت کو راتوں رات دوگنا کر دیا”۔

اسرائیلی فوج کے  چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے بھی یہی بتایا

اس سے پہلے اسرائیل کی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل  ایال ضمیر نے ہفتے کی رات کے بیان میں بتایا تھا کہ ایران کے میزائل کا  اضافی فاصلہ ممکنہ طور پر ایک لانچ وہیکل سے ہوا جس میں متعدد مراحل استعمال کیے گئےتھے۔ آج بریگیڈئیر جنرل  کوچاف نے نوٹ کیا کہ ایران کئی سالوں سے مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے جانے کی کوشش کرنے کے لیے اس طرح کی دو مرحلوں والی لانچنگ ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔

برسوں سے، اسرائیل اور امریکہ دونوں نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی سیٹلائٹ ٹیسٹوں میں دوہرے مقاصد کیلئے  استعمال کے عناصر ہو سکتے ہیں، جو بین البراعظمی روایتی اور جوہری دونوں مقاصد کیلئے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا باعث بن سکتے ہیں، ۔

اگرچہ اسلامی جمہوریہ  ایران نے ہمیشہ اس امکان کی تردید کی ہے، لیکن  اب اسرائیلی فوجی حلقوں میں یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ  ڈیگوگارسیا پر میزائل حملے نے ایک خفیہ پروگرام کو بے نقاب کر دیا ہے جو ایران اس طرح کے مقاصد کے لیے برسوں سے چلا رہا ہے۔

22 مارچ 2026 کو تہران، ایران میں، ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل تنازعہ کے دوران، ایک سڑک پر ایرانی میزائلوں کے علامتی نقلی نمونے آویزاں ہیں۔

یہ سوویت یونین کے دور کا R27 بیلسکٹک میزائل بھی ہو سکتا ہے
مختلف منظرناموں پر بحث کرتے ہوئے، کوچاو نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ جس قسم کے میزائل کا استعمال کیا گیا ہو وہ USSR دور کا R 27 بیلسٹک میزائل ہو۔

R 27 کو بنیادی طور پر USSR نے آبدوزوں سے فائر کیا تھا، اور وہ میزائل ممکنہ طور پر جوہری صلاحیتوں کے حامل تھے، لیکن ایران اسے زمین پر مبنی پلیٹ فارم سے لانچ کرنے کے لیے تبدیل کر سکتا تھا۔

کوچاو نے کہا کہ شمالی کوریا نے اسی طرح کے تکنیکی پس منظر سے آنے والے میزائل کا استعمال کیا ہے جس نے تقریباً 3000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔

اگر ایرانی میزائل R 27 خاندانی پس منظر سے آیا ہے، کوچاو نے کہا کہ یہ عام طور پر 1.5-2 ٹن دھماکہ خیز مواد کا وار ہیڈ لے جانے کے قابل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیئے:  ٹرمپ کی بجلی گھر تباہ کرنے کی دھمکی پر ایران کی جوابی دھمکی، عرب ملکوں میں کہرام مچنےکاخطرہ

کوچاو کے مطابق، میزائل کی رینج 3,000 سے 4,000 کلومیٹر تک بڑھانے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی خفیہ پروگرام زیادہ ہلکے وار ہیڈ کے ساتھ میزائل کو لانچ کرنے پر کام کرتا۔

دوسرے الفاظ میں، اگر وار ہیڈ ہلکا ہے، تو میزائل ہلکا ہے، اور اتنی ہی توانائی اور اسی طرح کے لانچ کے عمل کو استعمال کرتے ہوئے کم وقت میں زیادہ سفر کر سکتا ہے۔

ایک اور امکان جس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ایک ترمیم شدہ خرمشہر-4 کلاس میزائل کی موجودگی  ہے۔

یہ بھی پڑھیں: "ٹرمپ کی ” آگے کنواں پیچھے کھائی” جیسی صورتحال ہے، سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر کا تبصرہ





Source link

متعلقہ پوسٹ