حافظ نعیم الرحمن کون ہیں اور کیا ہیں؟ لوگ ان کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں لیکن مجھے ایسا کوئی دعوی نہیں تھا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان بننے کے بعد ان کا جو انداز فکر سامنے آیا، میں نے اس سے بیشتر اندازے قائم کیے۔ جناب شکیل ترابی بیچ میں نہ پڑتے تو یہی صورت حال برقرار رہتی۔ ایک ڈیڑھ ماہ گزرتا ہے، شکیل ترابی صاحب نے آگاہ کیا کہ امیر جماعت فلاں شام کو فلاں وقت پر فلاں مقام پر دست یاب ہوں گے، لوگ اس موقع پر جناب امیر العظیم کی تعزیت کے لیے جمع ہوں گے۔
عظیم بھائی سے تعلق خاطر ایک زمانے سے تھا، ان کی موت سے میں بہت دل گرفتہ تھا۔ ان کی خبر سنتے ہی ایک ایک کر کے بہت سے سرد گرم واقعات قطار باندھ کر سامنے آ کھڑے ہوئے، تعزیت کا موقع مل جاتا تو جی ہلکا ہو جاتا لیکن میری اپنی غلطی کی وجہ سے یہ موقع ضایع ہو گیا۔ یہ موقع تو ضایع ہوا لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ دو تین روز قبل شکیل ترابی صاحب نے آگاہ کیا کہ حافظ صاحب نے آپ کو یاد کیا ہے۔ یہ موقع کیسے ضایع کیا جا سکتا تھا چناں چہ ملاقات ہوئی اور خوب ہوئی۔ یوں ایک پرانی یاد نے ان کے تعارف میں ایک ایسی گہرائی پیدا کر دی جس کی غیر معمولی وجہ ذہن سے محو ہو چکی تھی۔
یہ انیس سو بانوے یا ترانوے کی بات ہو گی، گلشن اقبال کراچی میں جمعیت کے دو کارکن اغوا کیے گیے اور انھیں بدترین تشدد کے بعد شہید کر دیا گیا۔ یہ الطاف حسین کا عہد دل زار تھا۔ ان کے لیے معروف تھا کہ وہ انگلی اٹھا کر بے نیازی سے کہا کرتے تھے کہ اللہ کی امانت اللہ کے حوالے۔ یہ کارکن بھی بانی ایم کیو ایم کی اسی بے نیازی کا نشانہ بنے تو میں اس واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے کراچی جمعیت کے ناظم سے ملا۔ تکبیر نے اس زمانے میں ایم کیو ایم کی ‘کرم فرمائیوں’ کے خلاف علم بلند کر رکھا تھا۔ میں نے ان سے عرض کی کہ اس ظلم کے خلاف ہمارے ہفت روزے کے صفحات حاضر ہیں۔ انھوں نے میری بات توجہ سے سنی اور ایک جواب دیا۔ اس جواب کا کچھ پس منظر ہے۔
ایوبی آمریت، اس سے پہلے اور بعد کے زمانوں میں مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور ان کارکنوں کے خلاف مظالم کی انتہا ہو گئی اور داد رسی کا ہر دروازہ بند ہو گیا تو انھوں نے فرمایا:
’میں نے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں درج کرا دیا ہے‘
اس مشکل مرحلے پر ناظم جمعیت کا جواب بھی یہی تھا۔ حافظ صاحب نے یاد دلایا کہ میں وہی ہوں جس سے کوئی پچیس تیس برس کے بعد آپ کی ملاقات ہو رہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد اجنبیت کا پردہ ایک چھپاکے سے ہٹ گیا، یوں سمجھ میں آ گیا کہ ان کے امیر جماعت اسلامی بننے کے بعد جو تبدیلیاں محسوس کی جا رہی ہیں، وہ اتفاقی نہیں ان کے پس پشت غور و فکر کی وہ گہرائی موجود ہے جو کبھی بائیس پچیس کے ایک نوجوان میں مجھے دکھائی دی تھی۔
حافظ نعیم الرحمن سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ ان کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ پہلا چیلنج تو پیٹرولیم لیوی ہے جسے بھتہ قرار دے کر وہ اس کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر ہیں اور جب چاہیں، اپنے لانگ مارچ کو متحرک کر سکتے ہیں جو ملتان میں ان کے اشارے کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ میں نے ان سے لانگ مارچ کے بارے میں براہ راست تو کوئی سوال نہیں پوچھا البتہ یہ جاننے کی کوشش ضرور کی کہ اس مسئلے کے حل کے امکانات کیا ہیں۔
نیشنل رحمۃ اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خورشید احمد ندیم، جناب منصور مانی اور برادر عزیز ارشد ملک کے ہمراہ چند روز قبل وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تو جماعت کا مارچ اور لیوی کے معاملے پر بھی بات ہو گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ مجھے حل کرنا ہے، اس سلسلے میں حافظ نعیم الرحمن سے میں نے وعدہ بھی کر رکھا ہے۔
میرا خیال ہے کہ سہیل آفریدی اپنا شوق پورا کر لیں، اس کے بعد یہ مسئلہ بھی حل کرتے ہیں۔ ہم لوگوں نے بہ یک آواز تجویز پیش کی کہ بہتر ہو کہ یہ مسئلہ پہلے حل کر لیا جائے۔ وزیر اعظم نے مہربانی کی اور ہماری تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فوری طور جناب احسن اقبال سے رابطہ کیا اور انھیں ہدایت کی کہ جماعت اسلامی سے فوری طور پر رابطہ کر کے رات تک طے کر لیا جائے کہ ملاقات کب ہو رہی ہے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ حافظ صاحب نے تصدیق کی کہ احسن اقبال صاحب کا لیاقت بلوچ صاحب سے رابطہ ہو گیا ہے اور جلد ملاقات متوقع ہے۔
گزشتہ تین چار دہائیوں میں قوم نے تین چار امرائے جماعت دیکھے ہیں۔ ان کی پالیسیاں، حکمت عملی اور نتائج تاریخ کا حصہ ہیں۔ حافظ صاحب نے عوامی مسائل پر توجہ دی ہے۔ جماعت اسلامی میں یہ ایک نیا رجحان ہے جس کی ابتدا ‘حق دو کراچی کو’ نامی تحریک سے ہوئی۔
میری دل چسپی یہ جاننے میں تھی کہ حافظ صاحب کی اس حکمت عملی کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکمت عملی جماعت کو اقتدار کے قریب پہنچا دے گی؟ حافظ صاحب کا ذہن اس سلسلے میں واضح ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہم ستائش اور صلے کی پروا کیے بغیر عوامی مسائل پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاسی جماعتیں عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیتیں لیکن وہ اس سے مکمل طور پر لا تعلق ہو چکی ہیں۔ ان کے ایجنڈے پر عوام بالکل نہیں ہیں۔
ان کی گفتگو سے ایک اور بات جو سمجھ میں آئی، اس کا تعلق نوجوانوں سے ہے۔ حافظ صاحب سمجھتے ہیں، اس دور میں ٹیکنالوجی میں تبدیلی کی رفتار اتنی تیز ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے مقابلے میں ہیومن ریسورس کی تیاری اور تربیت کی رفتار بہت کم ہے۔ یہ کام یقینا حکومتوں کے کرنے کا ہے لیکن ان کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اس لیے ہم نے نوجوان افرادی قوت کو مستقبل کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے کے لیے اپنا حصہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج آپ منصورہ میں جائیں، ادارہ نور حق میں جائیں یا جماعت اسلامی کے کسی بھی دفتر میں چلے جائیں، ہم نے ان مراکز کو الخدمت کے پروگرام ‘ بنو قابل’ کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہاں جماعت کے ذمے داران صرف انتظامی ذمے داریاں ادا کرتے دکھائی نہیں دیں گے بلکہ آئی ٹی سمیت دیگر جدید مہارتیں سیکھنے والے نوجوانوں کی ریل پیل بھی دکھائی دے گی۔
حافظ صاحب سے باتیں اور بھی بہت سی ہوئیں۔ ان میں سیاسی اور مذہبی جمود کے معاملات بھی شامل تھے اور وہ مسائل بھی جن سے امن عالم کو نئے چیلنج لاحق ہو چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نوجوان امیر اپنی کم عمری کے باوجود ان سے نا صرف آگاہ دکھائی دیے بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ان معاملات میں ایک واضح نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
کسی سیاسی شخصیت کے مؤقف اور حکمت عملی پر نقد و جرح ہو سکتی ہے، حافظ صاحب بھی استثنا نہیں رکھتے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ ایک واضح سیاسی بیانیہ اور عزائم رکھنے والے حافظ نعیم الرحمن اس جماعت اسلامی کے زیادہ قریب ہیں جو سمجھتی تھی کہ وہ ایک اصلاحی تحریک ہے۔ اصلاح کا کام اس نے بہتر طریقے سے کر لیا تو وہ مقاصد بھی حاصل ہو جائیں گے جن کے لیے یہ جماعت قائم کی گئی تھی۔

