قسط نمبر 1
عموماً ایک سو سال میں تین نسلیں دنیا میں موجود ہوتی ہیں۔ اگر خاندانی اعتبار سے دیکھیں تو ایک صدی میں اکثر دادا ، باپ اور پوتا ایک ہی زمانے میں عمر وں کے واضح فرق کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ 21 ویں صدی کی پہلی دہائی کے بعد اب ہماری عمروں کے 80 فیصد لوگ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ یوں 1976 ء تک سو سال کے عرصے میں نظریات، شخصیات، واقعات، مشاہدات، حالات اور احساسات شعوری ارتقا کے ساتھ آگے بڑھے یہ شعوری ارتقا تین نسلوں میں ایک تسلسل کے ساتھ رہا۔
اس کے بعد یہ سب کچھ سماجی، سیاسی ، اقتصادی، علمی اور تحقیقی اعتبار سے تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر صدیوں تک نسل در نسل ہم اسے تاریخ کہتے ہیں۔۔یوںہم نے دادا ، دادی اور ماں باپ سے جوکچھ اُن کے زمانے میںگذرا سنا اوراپنے تصور و تخیل سے اُسے دیکھا، سوسال کے عرصے میں سے نصف حصے میں جب ہم پیدا نہیں ہو ئے تھے، ماضی قریب کے واقعات حالات، شخصیات کے بارے میں باپ دادا سے اُن کی چشم دیدگواہی اورتجربات کی بنیاد پر ہم نے اسے سمجھا۔ اس عمل میں ہمارے آبا و اجداد کے جو جذبات و احساسات شامل تھے اُسے ہم نے دادا اور باپ کے چہروں کے تاثرات سے اپنے اذہان میں جذب بھی کیا۔ پھر اپنی عمر کے حوالے سے باپ دادا کے ہمراہ جوکچھ دیکھا، محسوس کیا تھا اس کو مطالعے اور تحقیق کے ساتھ مو جودہ دور تک کے تناظر میں پرکھا بھی۔ یوں میری کوشش ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی پیدا ئش سے اپنی نسل تک تحقیق کی بنیاد پر اس شعوری ارتقائی عہد کو رقم کر وں۔
ہاں سیاق و سباق کے لیے تاریخی حوالے جہاں ضروری ہیں وہاں وہ اُس تناظر میں ہوں گے۔ دادا ،باپ اور بیٹے کی بنیاد پر یہ عرصہ 1876 ء سے 1976 ء کا بنتا ہے ۔ 25 دسمبر2026 ء کو قائد اعظم کی پیدا ئش کو پوری ڈیڑھ صدی مکمل ہو رہی ہے اس ڈیڑھ صدی میں قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 دسمبر1876ء سے 11 ستمبر 1948ء تک 72 سال کی زندگی دنیا میں گذار ی۔ اب 78 سال ہوئے کہ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ قائد اعظم کی ڈیڑھ سو سالہ یوم پیدائش پر میں یہ نہیں چا ہوں گا کہ اُن کی پیدائش سے اُن کے تعلیمی سفر اور پھر عملی ابتدائی زندگی کا احاطہ کر وں، کیونکہ یہ تمام مواد نصاب او ر دیگر کتابوں ، رسائل ،اخبارات کے دستاویزی فلموں ڈارموں آڈیو ز، ویڈیو ز کی صورت میں ریکارڈ پر مو جود ہے۔میں چونکہ اُس نسل سے تعلق رکھتا ہو ں جس نے آزادی کے چند برس بعد آنکھ کھولی، ہمارے والدین نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا یا اور تحریک کو دیکھا۔ ہمارے دادا کی نسل کے اکثر لوگ انگریز کی تعریف کر تے تھے مگر ہماری نسل کے افراد کے والدین کی اکثریت انگریز کی غلامی سے نجات پر خوش تھی۔ ہماری نسل کو پاکستان میں بہت کچھ مل۔ ا ملک کو برباد کر نے والی نسل بھی ہماری نسل یا پشت یا پیڑی ہے جو آزادی کے بعد پاکستان میں 1947 ء تا 1960 ء کی دہائیوں میں پیدا ہوئی۔ 1980کی دہائی سے ریاست کے تینوں ستونوں ، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہد وں پر اسی پشت یا پیڑی کے افراد ہی فائز ر ہے۔ یہی نسل معاشرے کے تمام شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کر تی رہی۔ اب یہ نسل رخصت ہوچکی یا ہو رہی ہے۔
اِ س پیڑی کے جو لوگ زندہ ہیں اُن کو اپنی ملازمتوں، عہد وں اور شعبوں سے کنارہ کش ہو ئے بھی برسوں بیت چکے ہیں۔ البتہ اعلیٰ سیاسی قیادت کے طور پر اب بھی یہی نسل ، پشت یا پیڑی براجمان ہے اور آئیندہ اقتدار کے لیے اپنے بچوں کو میدان عمل میں بھی لا کر اپنے انداز سے حکمرانی کے گر سکھا رہی ہے ۔ اگر ڈارمائی اور جذباتی انداز میں بیان کیا جائے تو تاریخ میں رومانیت کی آمیزش سے حقیقت کو داستان میں بدلا جا سکتا ہے مگر میں افسانہ اور ڈارمہ نگاری کے انداز سے واقفیت کے باوجود، اس سے گریز کر وں گا۔
قائد اعظم پر فاطمہ جناح کی لکھی ہوئی کتاب ،،My Brother ،،( میرا بھائی )کے علاوہ اہم کتابوں میں رئیس احمد جعفری کی کتاب’قائد اعظم اور ان کا عہد‘ خواجہ رضی حیدر کی کتاب ’قائد اعظم کے 72 سال‘ ضیا شاہد کی کتاب ’قائد اعظم کی زندگی کے دلچسپ واقعات‘ آج کی کتابیں ہیں،یاد رہے کہ محمد علی جناح پر قیا م پاکستان سے قبل اُن کی زندگی ہی میں 22 کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔ قائداعظم پر پہلی کتاب مصنفہ سروجنی نائڈو نے لکھی تھی۔ سروجنی نائڈوقائد اعظم سے تین سال چھوٹی تھیں۔ قائداعظم کی وفات کے ایک سال بعد 1949 ء میں اُن کا انتقال ہوا۔ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی ایک عظیم رہنما تھیں۔ ممتاز شاعرہ اور اچھی نثر نگار بھی تھیں۔ اُن کی ادبی حیثیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں اُن کو بلبل ِہند کا خطاب دیا گیا تھا۔ وہ 1925 ء میں کانپور کے اجلاس میں کانگریس کی صدر منتخب ہو ئی تھیں۔ حیدر آباد دکن کے ایک بنگالی برہمن خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ بطور انگریزی شاعرہ اُن کی شہرت بر طانیہ میں بھی تھی۔ سروجنی نائڈو کی انگریزی شاعری کا مجموعہ ’گولڈن تھرشولڈ‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔
آزادی کے بعد وہ بھارت کی پہلی خاتون گورنر بنیں۔ انہوں نے اترپردیش کی گورنرکا حلف اٹھا یا تھا۔ سروجنی نائیڈو کی قائد اعظم پر لکھی کتاب 1918 میں شائع ہو ئی۔ اس کا نام ’Huhammad Ali Jinnah An Ambassador of Unity‘ یعنی اتحاد کا سفیر ہے۔ 2018ء میں پہلی کتاب کی اشاعت کے 100 سال مکمل ہو نے پر قائداعظم پر لکھی گئی کُتب کی تعداد دوسو سے زیادہ ہو چکی تھی۔ یعنی سالانہ اوسطاً دو کتابیں قائد اعظم پر شائع ہو ئیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح انسانی نسل میں پشت در پشت بہت سی چیزیں ارتقائی سفر کر تی ہیں جن کو آج کی میڈیکل سائنس ’جینز کے ذریعے منتقلی کہتی ہے‘۔ اس میں جسمانی خدو خال موروثی بیماریاں جسمانی نقائص ، خون کی اقسام بھی شامل ہیں۔ اسی طرح عقل یا ذہانت (Intelligence )نسل درنسل منتقل ہو تی ہے۔ مگر جہاں تک تعلق ہے Knowledge یعنی علم کا، یہ کتابی علم والدین سے جینز کے ذریعے منتقل نہیں ہو تا۔ یہ ضرور ہے کہ ذہانت زیادہ ہو تو کتابی علم کے حصول کاعمل تیز تر ہو جا تا ہے۔ اسی طرح جسمانی خد وخال جینز کے ذریعے منتقل تو ہوتے ہیں
لیکن اِن کا ارتقا ماحول اور کو شش سے کم یا تیز یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہی صورت منفی ، مثبت انداز یا صورتوں میں موروثی بیماریوں کی ہوتی ہے جس میںبڑ ھوتی یا کمی اسی انداز سے ہو تی ہے۔ ایسی ہی صورت معاشرتی ، سماجی ارتقا اورتنزل کی ہو تی ہے۔ 1492 ء تک جب تک دنیا میں نو آبادیاتی نظام رائج نہیں تھا تو تاریخ میں یہ صورت بھی ہزاروں برسوں ایک ہی ردم اور توازن میں چل رہی تھی، مگر1492 ء میں جہاں اسپین میں مسلمانوں کے دور کا خاتمہ ہو ا، وہاں اسپین کی ملکہ ہی کی مالی امداد سے امریکہ دریافت ہوا تھا۔ اس واقعہ نے دنیا کی تاریخ میں ملکوں کی فتو حات کے انداز کوبدل دیا۔ اگرچہ اس سے قبل بھی یورپی ممالک خصوصاً یونان اور روم نے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں فتح کیا ،یہاں طویل عرصے تک حکومت کی اِن ایشیائی افرایقی ملکوں کو باوجود غلامی کے علم وہنر کے اعتبار سے فائد ہ پہنچا، جیسا کہ قدیم تاریخ میں ایشیا ، ا فریقہ کی مختلف سلطنتوں کے زمانے میں خود یورپ نے اِن سے استفادہ کیا تھا۔ لیکن 1492 ء کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی، جد ید معاشی ترقی کے تقاضوں نے نو آبادیاتی نظام کونئے انداز دیئے۔ چودہویں صدی میں اٹلی کے شہروں میں تاجروں اور صرافوں نے قرض دینے اور رقوم کی منتقلی کا نظام یعنی جدید بنکنگ شروع کی۔
1397 ء میں اٹلی کے Medici family میڈیچی خاندان نے فلورنس میں بنک قائم کرکے یورپ میں بنکاری کا جال پھیلانا شروع کیا۔ سولہویں صدی میں جرمنی اور ہالینڈ ( اینٹوپ) کے بینکنگ خاندانوں نے بین الاقوامی سطح پر لین دین اور تجارتی قرضوں کا آغاز کیا جب کہ جدید اور پبلک بنکنگ کا آغاز 1600 ء میں برطانیہ میں گو لڈ سمتھس ( سنہاروں )ذریعے ہوا ۔ سنٹرل بنکنگ کی شروعا ت 1668 ء میں بنک آف سویڈن سے ہوئی اور 1694 ء میں بنک آف انگلینڈ قائم ہو گیا۔ اسی طرح پہلی ا سٹاک ایکسچینج 1602 ء ایمسٹرڈیم میں ہالینڈ کی ڈچ ایست انڈیا کمپنی نے قائم کی۔ صنعتی ترقی کے ساتھ اس کے تقاضے بدلنے لگے آجر ، اجیر کے تعلقات اوقات کار اجراتوں اور منافع کا تناسب ، منڈیوں تک رسائی ،1760 ء سے 1840 ء تک یہ دور بر طانیہ میں صنعتی انقلاب کا دور کہلایا۔ اب یورپی ترقی یافتہ ملکوںمیں عوام اور حکمرنوںکے درمیان حقوق و فرائض کی بنیاد پر کشاکش جاری رہی۔ 1776 ء میں امریکہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی 1789 ء سے 1799 ء تک فرانس انقلابِ سے گذرا۔ 1861 ء سے1865 ء تک امریکی خانہ جنگی رہی جو اپنی جگہ ایک انقلاب تھا۔ یہ تمام تاریخی مر احل نہ صرف یورپ اور امریکہ بلکہ پوری دنیا میں رونما ہو چکے تھے۔
جب 1876 ء کو قائد اعظم محمد علی جناح برٹش انڈیا کے نئے تعمیر شدہ شہر کر اچی میں پیدا ہو ئے تو ایسٹ اندیا کمپنی نے کراچی شہر اور اس کی جدید بندر گاہ 1839 ء میں تعمیر کی تھی۔ اسی طرح بر ٹش انڈیا کے پہلے جدید شہر اور بندر گاہ کولکتہ کی تعمیر 1690 ء میں ہوئی۔ ممبئی شہر اور بند ر گاہ کی تعمیر 1784 ء میں ہو ئی اور ہندوستان میں تجرباتی طور پر ریلوے کا آغاز بھی ممبئی سے 1853 ء یعنی قائد اعظم کی پید ائش سے صرف 24 سال پہلے ہوا تھا۔ برٹش انڈیا میں پہلا جدیدکالج فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں 1800 ء قائم ہوا۔ 4 جنوری 1857کویونیو رسٹی آف کلکتہ کے نام سے پہلی یو نیورسٹی قائم ہو ئی یعنی ہندوستان میں پہلی یونیورسٹی قائد اعظم محمد علی جناح کی پیدائش سے 21 سال پہلے قائم ہو ئی۔ 21 سال پہلے ہی جنگ آزادی 1857 ء ناکام ہو ئی۔ یہاں محمد علی جناح کی پیدائش سے پہلے یعنی ماضی قریب میں برٹش انڈیا کی سماجی ،سیاسی ، اقتصادی ، تعلیمی ، انتظامی ، صورتحال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ جیسے زرعی پیدا وار میں معیاری بیج کے علاوہ موسمیاتی ماحول ،پانی کی فراہمی کی مقدار ، معیاری کھاد اور کیڑے مار ادویات سبھی ہی اہمیت رکھتے ہیںْ اسی طرح اس سے ملتی جھلتی صورت ملکوں اور معاشروں میں ہو تی ہے۔ ملک کی سطح پر اقتدار اعلیٰ کی سب سے زیادہ اہمیت ہو تی ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت سے پہلے مسلم بادشاہت تقریباً ہزار سال رہی جس میںسب سے اہم مغلیہ سلطنت تھی۔
ایک ہزار سالہ حکومت بھی جاگیردارنہ نظام کے تحت جاری رہی ، یعنی جب بھی کسی بادشاہ نے ہندوستان فتح کیا ، تو اُس کی فوج میں جو قبائلی دستے شامل ہو تے اُن کی تعداد کے اعتبار سے اُن کے سردار کی اہمیت کا تعین ہو تا۔ ہندوستان فتح ہو جا تا جیسے ظہیر الدین بابر نے کیا تو وہ اپنے خاندان کے افراد بھائیوں ، بیٹوں کو صوبوں کی گو نری عطاکر تے اور پھر اس گورنر کی ماتحتی میں اپنے ساتھ آنے والے سرداروں کو اُن کی تعداد کے لحاظ سے علاقوں میں ریاستیں دی جاتیں اور نواب ، راجے ،مہاراجے یا خان لقب بھی دیئے جاتے یہ ریاستی نظام بادشاہت کے موروثی نظام کی طرح ریاست کے سردار، نواب یا راجے کی وفات کے بعد اقتدار ولی عہدہ عموماً بڑے بیٹے کو منتقل ہو تا ۔ مگر یہ جاگیر کسی جاگیردار ، نواب ، راجے یا مہاراجے کی ذاتی ملکیت نہیں ہو تی تھی بلکہ سلطنت کی ملکیت ہوتی تھی۔ بادشاہ ناراض ہو تا تو جاگیر سے بے دخل کر سکتا تھا کسی اور کو یہ جاگیر عطا کر دیتا۔
بر صغیر کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی سلطنت مرکزمیں کمزور ہوتی تو یہ جاگیردار اپنے طور پر اندازہ کرتے کہ سیاسی بحران میں بادشاہ طاقتور ہے یا بادشاہ کا مخالف اور بادشاہ کمزور نظر آتا تو جاگیردار باشاہ کے مخالف بھی ہو جاتے تھے۔ جیسینواب سراج الدولہ کو ان کے وزیر میر جعفر نے غداری کی وجہ سے شکست ہو ئی۔ 1757 ء کی جنگ ِ پلاسی میں سراج الدولہ شہید ہوئے اس جنگ میں میر جعفر کے ساتھ مقامی جاگیردار تاجر ، اعلی فوجی افسران شامل تھے۔ جنگ پلاسی میں کلائیو کی ایسٹ انڈیا کی فوج صرف 3000 تھی مقابلے میں نواب سراج الدولہ کی فو ج 50000 سے 70000 کے درمیان تھی جس میں 15000 گھوڑ سوار بھی شامل تھے۔1757 ء سے 1857 ء کے درمیان ایک صدی میں ہندوستان میں انگر یز کی فوجی قوت کا تناسب تقریبا جنگ پلاسی ہی کی طرح کا رہا ۔ انگر یز ذہانت ، چالاکی اور تحقیق کی بنیاد پر سائنسٹفکٹ انداز میں منصوبہ بندی کرتا تھا۔ نواب سراج الدولہ کے بعد انگریز سے ٹکرانے والی دوسری قوت ٹیپو سلطان تھی ، جس کے خلاف انگریز نے 1799 ء میں جاگیر داروں کو اپنے ساتھ ملایا جن میں مرہٹہ اور نظام حیدر آباد دو بڑی قوتیں تھیں۔
ہندوستان میں انگریز کی آمد سے قبل ہندومجموعی طور پر ذات پات ،نسل اور لسانی بنیادوں پر تقسیم تھے سب سے بڑی تقسیم برہمن ، کشتری ، ویش اور شودر کی تھی۔ اس بنیاد پر انگریز کے دور میں ہندو سماج میں انسانی حقوق کی جو پامالی تھی اس کے خلاف انگریزوں نے ہند و قومیت کے حق میں بہت کام کیا۔ اُنہوں نے سیکولر ازم کی بنیاد پر ایسے ہندو اسکالرز دانشوروں کی حوصلہ افزائی کی جوقدیم ہندو تنگ نظری کے خلاف تھے۔ انگریزوں نے اس طرح ہندوستان میں ہندو قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں مدد دی یہاں تک کہ ہندوستان میں جب سیاسی جماعت کانگریس قائم ہو ئی تو یہ جماعت بھی ایک انگریز مسٹر ہیوم نے تشکیل دی تھی ۔ 1857 ء کی جنگ آزادی میں ناکامی سے پہلے مسلمان جو ہندوستان کی آبادی کا 30 فیصد تھے، اپنے تقریباً ایک ہزار سالہ اقتدار کی بنیاد پر سماج میں اپنی آبادی کے تناسب کی نسبت اقتصادی اور سماجی طور پر بہتر پوزیشن میں تھے، مگر جنگ آزادی کے چند مہینوں بعد مسلمان انتہائی زوال پزیر ہو ئے۔ دس لاکھ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ اُن کی املاک مال و دولت کو لوٹ لیا گیا یا سرکاری ضبطی ہوئی ، سماجی مرتبے صرف اُن مسلمان نوابین کے رہے جنہوں نے جنگِ آزادی لڑنے والے مجاہدین کے خلاف ہندو راجاؤں کی طرح ہزاروں سپاہی فراہم کئے۔ یہاں بھی ہند وستان کا جاگیرد ارنہ نظام ہی تھا جس نے باوجود یہ جانتے ہوئے کہ انگریز ہندوستان کی 23 کروڑ کی آبادی کے مقابلے میں عورتوں بچوں سمیت صر ف ایک لاکھ کی تعداد میں ہیں اِن نوابین اور راجاؤں نے اپنے ذاتی مفاد کے حق میں انگریز کا ساتھ دیا ۔
حریت پسند مسلم دانشوروں رائٹروں میں اُس عہد میں دو دانشور رائٹر اہم رہے ، نمبر 1 مولانا محمد حسن آزاد کے والد، اردواخبار دہلی کے مالک اور ایڈیٹر محمد باقر تھے جنہوں نے جنگ آزادی کے دوران اپنے قلم سے جہاد کیا ،مجاہدین کے لہو کو گر مایا، انگریز کے جبر و استحصال کے خلاف لکھا۔ جنگِ آزادی کے نا کام ہو نے پر انگریز سرکار نے اُن سر عام سزائے موت دی اور جائید اد ضبط کر لی۔ اُن کے بیٹے عظیم نثر نگار دانشور مولانا محمد حسین آزاد ،رو پوش ہو ئے گئے پھر برسوں بعد لاہور آئے۔ دوسرے مصلح ،دانشور، ماہرتعلیم اور رائٹر سر سید احمد خان تھے جو سرکار کے ملازم تھے اُنہوں جنگ آزادی میں کچھ انگریز خواتین اور بچوں کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد اُنہوں نے محسوس کر لیا کہ برصغیر کے مسلمان ایسی غلامی کے شکنجے میں جکڑے گئے ہیں جیسے چکی کے دو پاٹوں کے درمیان اناج کے دانے۔
اُنہوں نے اپنی فہم و فراست سے اس مشکل سے قوم کو نکالنے کا راستہ بنا یا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قائد اعظم سے پہلے صرف سرسید احمد خان ہی ایسے رہنما تھے جنہوں نے مسلمانوں کو انتہائی زوال سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔ سر سید نے 1877 ء میںجب علی گڑھ میں کالج قائم کیا اُس وقت ریکارڈ کے مطابق ہندوستان کی کل آبادی 23 کروڑ 90 لاکھ تھی جس میں مسلمان آبادی تقریباً 7 کروڑ سے زیادہ تھی۔ اُس وقت ہندوستان میں گریجویٹس کی کل تعداد6408 تھی جن میں صرف 216 مسلمان گریجویٹ تھے۔ یعنی قائد اعظم محمد علی جناح کی کراچی میں پیدائش کے ایک برس بعد تعلیمی اعتبار سے ہندوستان کی صورتحال یہ تھی۔

