27 ستمبر کا لانگ مارچ: گرفتاریوں اور چھاپوں کے درمیان پی ٹی آئی اسلام آباد کیسے پہنچے گی؟

398417 1183532065


پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں، تاہم مارچ سے قبل پنجاب کے مختلف شہروں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں نے اس کی کامیابی کے امکانات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ حکومت کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے، جبکہ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے سپریم کورٹ جو فیصلہ دے گی، اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ احتجاج یا لانگ مارچ کے نام پر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان کی سیاست میں اپوزیشن جماعتوں کے لیے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک یا لانگ مارچ ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے، جبکہ ایسے احتجاج سے قبل رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ بھی نئی بات نہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے لیے موجودہ صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ نو مئی کے احتجاج کے بعد اس کی مرکزی قیادت کا ایک بڑا حصہ جیل میں ہے، جبکہ کئی رہنما مختلف مقدمات میں عدالتوں سے سزائیں بھی پا چکے ہیں۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے متعدد اہم رہنما، جن میں شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں، بدستور جیل میں ہیں۔ ایسے میں پنجاب میں پارٹی کے متحرک رہنماؤں میں شمار ہونے والے حماد اظہر کو بھی چند روز قبل نو مئی سے متعلق مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔

کیا کارکن اسلام آباد پہنچ سکیں گے؟

اس صورت حال میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ ماضی کی طرح اگر 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل ہی گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو پی ٹی آئی کے کارکن لاہور یا پنجاب کے دیگر بڑے شہروں سے اسلام آباد کیسے پہنچ سکیں گے؟

لانگ مارچ میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے تنظیمی عہدیدار اور ارکان اسمبلی بھی محتاط نظر آتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بیشتر عہدیدار منظر عام سے غائب ہیں اور بعض نے اپنے موبائل فون نمبرز بھی بند کر رکھے ہیں۔

پی ٹی آئی پنجاب کے پارلیمانی رہنما شیخ امتیاز محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ میں شرکت سے روکنے کے لیے گزشتہ دو راتوں سے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق لاہور کے جنرل سیکریٹری حاجی فیاض، جبکہ دیگر عہدیدار سعید لودھی اور تقی رضا کو حراست میں لے کر پرانے مقدمات میں گرفتاریاں ڈالی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے، جبکہ میانوالی، پتوکی اور فیصل آباد سمیت کئی شہروں سے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس کے حکام سے ان دعوؤں پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔ البتہ جمعے اور ہفتے کی رات حراست میں لیے گئے تینوں رہنماؤں کا پہلے سے درج مقدمات میں عدالت سے ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

حماد اظہر کی گرفتاری

حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد سات ستمبر کو لاہور پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ لاہور پولیس کو مطلوب اشتہاری مجرم حماد اظہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو 18 مقدمات میں مطلوب تھے اور تین سال سے روپوش تھے۔

بعد ازاں حماد اظہر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 15 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جمعے کو 26 نومبر کے مقدمات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں شاہد خٹک، جنید اکبر، عاطف خان، مینا خان آفریدی، شفیع جان، نسیم علی شاہ، اقبال آفریدی اور عبدالغنی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ ان رہنماؤں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔

پنجاب حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور اس امکان کے بارے میں جب پنجاب حکومت سے پوچھا گیا کہ کیا لانگ مارچ میں شرکت کے لیے کارکنوں کو روکا جائے گا تو صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت جو فیصلہ کرے گی، پنجاب حکومت اس پر عمل درآمد کرے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی 15 ستمبر کو لاہور آمد کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کے مطابق ان کی آمد پر 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی مہم چلائی جائے گی، جس کا شیڈول بھی جاری کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا ’لانگ مارچ ضرور ہوگا‘ کا دعویٰ

پی ٹی آئی پنجاب کے ترجمان شوکت بسرا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے پنجاب میں ’سٹریٹ موومنٹ‘ کے اعلان کے بعد صوبے میں پارٹی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے بقول، ’پنجاب میں ظلم، جبر اور فسطائیت کی انتہا کر دی گئی ہے۔ ایک ہزار سے زائد پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شوکت بسرا نے پولیس چھاپوں کے دوران گھروں کی حرمت پامال کرنے، گھروں کو توڑنے اور سیل کرنے جبکہ کارکنوں کے خلاف بجلی چوری کے ’جھوٹے مقدمات‘ درج کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت جتنی بھی رکاوٹیں پیدا کر لے، ’آئین کی بحالی، عدالتوں کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ ضرور ہوگا۔‘

حکومت کا امن و امان پر زور

تاہم وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ہفتے کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو احتجاج یا لانگ مارچ کے نام پر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو نو مئی کے واقعات سے مماثلت رکھتی ہو، اور پارٹی کو سیاسی رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورت دیگر اسے ’مزید نقصان‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ