کالجیئم نہیں، پی ایم مودی کر رہے ہیں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری: سابق جج

Narendra Modi2024 PIB


وزیراعظم نریندر مودی۔ تصویر: پی آئی بی

مدراس ہائی کورٹ کے سابق جج کےچندرو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کالجیئم کے بجائے پی ایم نریندر مودی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کالجیئم کے نظام میں شفافیت کے فقدان پر سوال اٹھائے۔ ایک مذاکرے میں سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھر نے عدلیہ میں خواتین ججوں کی کمی پر بھی تشویش  کا اظہار کیا۔

نئی دہلی:مدراس ہائی کورٹ کے سابق جج کےچندرو نے سنیچر کوالزام لگایا کہ اب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری  کالجیئم کے بجائے براہ راست وزیراعظم نریندر مودی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2014میں مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت نے نیشنل جوڈیشل اپوائنٹمنٹ کمیشن (این جے اے سی)قائم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اس قانون کو ردکر دیا۔ چندرو کے مطابق، اس کے بعد سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی تقرری مودی نے براہ راست کی ہے، کالجیئم نے نہیں۔

چندرو نے کہا کہ حکومت نے این جے اے سی کو دوبارہ لاگو کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، کیونکہ اسے کمیشن سے کارآمد طریقے مل گئے تھے۔

انہوں نے ججوں کی تقرری کے کالجیئم نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور آئین میں بھی اس نظام کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایشین کالج آف جرنلزم(اے سی جے)کے زیر اہتمام ’ہو دل جج دی ججز ‘(ججوں کا فیصلہ کون کرے گا؟)کے عنوان سے منعقدہمذاکرے میں کلیدی خطاب کے دوران چندرو نے کہا؛’سپریم کورٹ میں 38 جج ہیں اور ہائی کورٹ میں تقریباً ایک ہزار جج ہیں۔ کالجیئم نظام کے تحت تقرری کے عمل میں کسی کو کچھ پتہ  نہیں چلتا۔ یہ ایسا نظام ہے جسے آئین کی منظوری حاصل نہیں ہے۔ یہ ملک کا سب سے بہترین طریقے سےچھپا کر رکھا گیا راز ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو چھوڑ کردنیا میں کہیں بھی جج خود دوسرے ججوں کی تقرری نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان جیسے کسی بھی انتخابی جمہوری نظام میں اس طرح کا سسٹم نہیں ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور خواتین ججوں کی کمی پر بھی سوال

اس سے پہلے اڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھر نے ’پرائمس انٹر پیریس: اے کرٹیک آف دی آفس آف دی چیف جسٹس آف انڈیا ‘کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے کئی چیف جسٹس بننے والے ہیں، جنہوں نے کبھی کسی ہائی کورٹ کی سربراہی نہیں کی ہے۔

مرلی دھر نے سپریم کورٹ میں خواتین ججوں کی ناکافی تعداد پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا،’سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ دو سال تک اس عہدے پر فائز رہے، لیکن انہیں سپریم کورٹ میں ترقی کے لیے اہل ایک بھی خاتون جج نہیں ملیں۔ تنوع کی بات صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے کی جاتی ہے۔‘

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے ’عدم رضامندی یا نااہلی؟ مواخذے کی کوششیں ناکام کیوں ہوتی ہیں‘کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

وہیں، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جج کےکنن نے ’ججوں کو فیصلہ کرنے کے لیے تیار کرنا‘کے موضوع پر خطاب کیا۔ مدراس ہائی کورٹ کی سینئر وکیل آروایگئی نے عدالتی تقرریوں میں تنوع کی کمی اور انصاف کے معیار سے متعلق سوالوں پر کلیدی خطاب کیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ