اسلام آباد (محمد سلیم سے ) — وفاقی آئینی عدالت نے پیر سوہاوہ میں واقع معروف مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کے خلاف جاری حکمِ امتناع بھی ختم کر دیا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ زمین کی ملکیت کا معاملہ متعلقہ ٹرائل کورٹس، عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر، آزادانہ طور پر طے کریں گی، جبکہ انتظامی نوعیت کے امور کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں رہے گا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا کیسز کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے کیس دائر کرنے یا نظرِ ثانی درخواست دائر کرنے کے عمل پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس رضوی نے کہا کہ عدالت کو جذباتی بنیادوں پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
مونال ریسٹورنٹ کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے قانونی تنازع کا شکار رہا ہے، اور یہ فیصلہ اس طویل عدالتی کشمکش میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

