وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اتوار کو خیبر پختونخوا کی حکومت کی معطلی اور صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد اپوزیشن رہنما اور سیاسی ناقدین یہ سوال پوچھ رہے کہ دونوں صوبوں میں سکیورٹی کی خراب صورت حال کے باوجود صرف خیبر پختونخوا میں ہی گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، اس لیے بلوچستان حکومت اس اقدام کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کا نفاذ صرف امن و امان کی صورت حال کی بنیاد پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے بقول خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے لیے مختص فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، مؤثر قانون سازی اور دہشت گردی کے خلاف بیانیے کی تشکیل میں تعاون فراہم کرنا ضروری ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے اور جان سے گئے، تاہم ایک مخصوص جماعت پر آج تک ایک پٹاخہ بھی نہیں پھینکا گیا۔ انہوں نے اس صورت حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ کوئی حملہ ہو، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس جماعت کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ روز سوئی کا دورہ کیا تو دور کہیں دستی بم اور کریکر پھوڑے گئے۔ ان کے مطابق اگر بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمہ داری نہ سمجھتی تو صورت حال مختلف ہوتی۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قاتلوں کو واپس بلانے کی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایسا کہنے والے کون تھے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے تمام ارکان دہشت گردی کے خلاف ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین بنانے والوں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں متعلقہ آرٹیکلز شامل کیے تھے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے صوبائی حکومت معطل کر دی تھی۔ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں۔
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان سے متصل خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کو روکنا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صوبے کا انتظامی اختیار گورنر سنبھالیں گے۔ پاکستان کا آئین ہنگامی حالت کے دوران وفاق کو صوبائی انتظامی اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اور فوج پی ٹی آئی پر شدت پسندی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں، تاہم جماعت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

