نیتن یاہو کو الیکشن سے پہلے سات اکتوبر  والی  ناکامی کے مقدمہ میں عدالت میں گھسیٹ لیا گیا

news 1791985230 9909



news 1791985230 9909

 (ویب ڈیسک) اسرائیل میں پارلیمنٹ کے بہت سخت الیکشن سے کچھ ہفتے پہلے نیتن یاہو کے لئے بڑی مصیبت کھڑی ہو گئی ہے۔  سات اکتوبر حملوں کے وقت شن بیٹ کے  چیف رونن بار  نے نیتن یاہو  پر مقدمہ دائر کر دیا۔ رونن بار 7 اکتوبر سکے حملوں سے پہلے ان حملوں کے متعلق نیتن یاہو کو دیئے گئے انتباہات کی فہرست عدالت لے گئے۔

شیہہ بیخ (شن بیٹ) کے سابق سربراہ رونن بار نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بار کو 7 اکتوبر 2023 سے پہلے کے گھنٹوں میں حماس کے حملے کے خطرے کے بارے میں علم تھا، لیکن وزیر اعظم کو مطلع نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

حملے کے روز تین گھنٹے پہلے آگاہ کیا، نیتن یاہو سویا رہا

تیس لاکھ شیکال کے ہتک عزت کے دعویٰ میں (تقریباً $975,000 ڈالر/27 کروڑ روپے ) سابق شیہ بیخ چیف رونن بار نے ان اقدامات کی تفصیلات بیان کر دی  جو انہوں نے اور شن بیٹ نے 7 اکتوبر کے اوائل میں حملے کے خدشات کے جواب میں اٹھائے تھے۔ ان اقدامات میں نیتن یاہو کے ملٹری سیکرٹریٹ کو  7 اکتوبر  2023 کی صبح حماس اور اسلام جہاد کے اسرائیل پر حملے سے تین گھٹے پہلے صبح 3:55 پر اپ ڈیٹ کرنا بھی شامل ہے۔

نیتن یاہو اور ان کے دفتر کے اہلکاروں نے اس وارننگ پر بھی ماضی کی وارننگز کی طرح کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ نیتن یاہو خود اس وقت اپنے گھر سوئے پڑے تھے اور ان کی ملٹری سیکرٹیریٹ نے ان کو جگا  کر بتایا ہی نہیں تھا کہ اسرائیل کی سرحدوں سے پر غزہ کے اندر کیا خوفناک طوفان اٹھ رہا ہے۔

اکتوبر سےپہلے کی وارننگز کی طویل لِسٹ 

سابق انٹیلی جنس سربراہ نے انتباہات کی ایک لمبی فہرست بھی بتائی ہے جو ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے کے مہینوں میں جاری کیا تھا۔

رونن بار ک نے عدالت کے روبرو پیش کئے گئے قانونی دعویٰ میں نیتن یاہو کے ساتھ 23 جولائی 2023 کو ایک محفوظ لائن پر ہونے والی بات چیت کو شامل کیا، جس میں رونن بار نے کہا تھا کہ "میں آپ کو جنگ کے  متعلق ایک "سٹریٹجک وارننگ”  دے رہا ہوں،” اور یہ کہ اسرائیل کے دشمن اسرائیل میں داخلی سیاسی تقسیم کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

حملہ روکنے کے لئے خود حملہ کرنے کی تجویز اگست میں دی

رونن بار نے یہ نہایت اہم بات بھی نیتن یاہو سے کہی تھی کہ اسے  (حماس اور اسلامک جہاد کے ممکنہ حملے کو) روکنے کا واحد راستہ قبل از وقت  سٹرائیک  (اسرائیلی حملہ)ہے۔

21 اگست 2023 کو ایک ورکنگ میٹنگ میں، رونن بار کا کہنا ہے کہ، انہوں نے "غزہ کی پٹی سے حملوں کی تیاریوں” میں "ڈرامائی اضافہ”   کی زور دے کر اطلاع دی اور  واضح کیا کہ "غزہ میں جارحانہ سرگرمی کے بغیر، حقیقت کو تبدیل کرنا (حماس کی حملے کی تیاری کو روکنا) ممکن نہیں ہوگا۔”

14 ستمبر کو غیر معمولی پیغام کیا تھا؟

بار نے مزید کہا کہ 14 ستمبر 2023 کو، "دشمن کی طرف سے ایک غیر معمولی پیغام موصول ہوا” اور  انہوں نے پرائم منسٹر نیتن یاہو کو اس غیر معمولی پیغام کے بارے میں اپ ڈیٹ کیا۔ عدالت مین پیش کی گئی دستاویزات مین رونن بار نے اس پیغام کی وضاحت نہیں کی گئی کہ پیغام کیا تھا۔ تاہم جب بھی عدالت مین سوال کیا جائے گا وہ اس پیگام کی تفصیل ممکنہ طور پر ان کیمرہ یا سب کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

ڈیٹرنس کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت پر 17 ستمبر کوبتایا

7 اکتوبر  2023 کو حماس اور اسلامک جہاد کے ہزاروں مسلح کارکنوں کے میلوں کے رقبہ میں پھیلے حملوں کا سامنا کرنے والے شن بیٹ کے   سربراہ  رونن بار نے مزید بتایا کہ  17 ستمبر کو اس معاملے پر ہونے والی بات چیت میں، انہوں نے اس سے بچنے کے امکان کے بغیر "تصادم کے ایک ویکٹر” سے خبردار کیا، اور کہا کہ ڈیٹرنس کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

اس ڈیٹرنس کو فوراً دوگنا تین گنا کر دینے کے لئے فوج کی صرف ایک دن کی مینوورنگ ہی کافی ہو سکتی تھی۔ انہیں کچھ ہزار مزید فوجیوں کو حملے کے خطرے کے علاقوں میں منتقل کرنا ہوتا۔

یکم اکتوبر کی وارننگ کیا تھی؟

رونن بار نے یکم اکتوبر 2023 کو دہشت گرد گروہوں کے حملے کرنے کے ارادے کے عروج پر  ہونے کے بارے میں خبردار کیا تھا، اور اسرائیل کو تعطیل کی مدت ختم ہونے سے پہلے اس کی مرضی کے خلاف لڑائی کے ایک دور میں گھسیٹا جائے گا، اور اہم دہشت گرد رہنماؤں کے ٹارگٹڈ قتل کی سفارش کی تھی، جو بالآخر انجام نہیں دی گئیں۔

سابق انٹیلی جنس چیف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حصے کے الزام سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

"سروس کے سربراہ کی حیثیت سے، میں اس حقیقت کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ شن بیٹ 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے اور "حملے کے وقت کے بارے میں مطلوبہ انٹیلی جنس” فراہم کرنے میں جزوی طور پر ناکام رہا۔ اسی مناسبت سے، سوگوار خاندانوں کے سامنے سر جھکاتے ہوئے، میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،”  رونن بار نے یہ بات اپنے ہتک عزت کے دعوے میں لکھی۔

رونن بار نے ہتک عزت کے دعوے میں مزید لکھا کہ "میں خاموشی سے ایک ریاستی کمیشن آف انکوائری کے قیام کا انتظار کرتا رہا جو آخر کار خونریزی کے سلسلے میں ناکامیوں کے ساتھ ساتھ شن بیٹ کے اقدامات کو بھی بے نقاب کرے گا۔ وزیر اعظم کے بے لگام غصے کی روشنی میں، میں نے خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کیا،” بار  نے ان دنوں کے بارے میں بتایا جب وہ مجبوراً پبلک کے سامنے بول پڑے تھے کہ سات اکتوبر کے حملوں میں کوتاہیوں اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لئے ریاستی اکمیشن آف انکوائری ضرور بننا چاہئے۔

رونن بار کے خلاف نیتن یاہو کے الزامات ایسی  کئی رپورٹس کے درمیان سامنے آئے جن میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے تک آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ایک آنے والے حملے سے خبردار کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، جس سے جنگ چھڑ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیئے:  ایک ساتھ تین چھٹیوں کی خوشخبری 

بظاہر یہ ہوا تھا کہ نیتن یاہو نے خود پر ہو رہی تنقید کا رخ موڑے کے لئے الٹا رونن بار کو ہی نشانہ بنا ڈالا جو پہلے ہی نیتن یاہو کی سخت نا اہلی پر مبنی پالیسیوں اور اقدامات پر سخت ناراض تھے اور غصے سے بھرے بیٹھے تھے۔  رونن بار کے مسلسل پبلک مطالبہ کے باوجود نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی اکثریت کی حامل کنیست نے سات اکتوبر کے حملوں کی  ذمہ داری کا تعین کرنے کے لئے ریاست کا تحقیقاتی کمیشن بنانے سے انکار کر دیا تھا لیکن رونن بار نے خود پر پلٹ کر لگائے گئے الزامات کو تب بھی سنجیدگی سے رد کیا تھا لیکن کوئی فوری قانونی کارروائی نہیں کی تھی، البتہ اب وہ عدالت میں جا پہنچے ہین جہاں بظاہر یہ ہتک عزت کا ایک سول سوٹ ہی ہے لیکن اس کا موضوع اور مواد اس مقدمہ کے اسرائیل کی عدالتی تاریخ کی ایک بڑی جنگ بننے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ