پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامى البقمى نے بدھ کو صدر آصف علی زرداری کو اپنی سفارتی اسناد پیش کرنے کے بعد باضابطہ طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
سعودی سفارت خانے کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ان کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان اور سعودی عرب خطے میں جاری تنازع اور مملکت پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے تناظر میں قریبی سفارتی اور سکیورٹی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
سعودی سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے پاکستان میں خادم الحرمین الشریفین کے سفیر کی حیثیت سے اپنی سفارتی اسناد صدر آصف علی زرداری کو پیش کیں اور باضابطہ طور پر مملکت کے سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ’معزز سفیر نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کے مثبت اور برادرانہ مؤقف پر صدر کا شکریہ ادا کیا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں گہرے، مضبوط اور تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔‘
نئے سعودی سفیر نے صدر زرداری کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے خیرسگالی اور نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ اس کے ساتھ پاکستان کی حکومت اور عوام کے لیے مسلسل ترقی اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
سعودی سفارت خانے کے مطابق صدر زرداری نے سعودی قیادت کے نیک تمناؤں کے پیغام کا جواب دیتے ہوئے مملکت کے لیے پاکستان کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا۔
ڈاکٹر البقمی نے نواف بن سعید المالکی کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، جنہوں نے رواں سال کے آغاز میں پاکستان میں سعودی سفیر کی حیثیت سے تقریباً نو سالہ مدت مکمل کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ریٹائرڈ میجر جنرل ڈاکٹر البقمی نے لندن کی برونل یونیورسٹی سے انسانی وسائل کے انتظام کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
وہ ان آٹھ سعودی سفیروں میں شامل تھے جنہوں نے جولائی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے حلف اٹھایا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعلقات قائم ہیں۔
ریاض نے معاشی مشکلات کے دوران اسلام آباد کو مالی معاونت فراہم کی ہے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے بھی کیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون میں بھی وسعت آئی ہے۔ اس سلسلے میں دفاعی تعاون کے معاہدے شامل ہیں، جن میں گذشتہ سال دستخط کیا گیا دوطرفہ معاہدہ اور اگست میں مکہ مکرمہ میں ترکی کے ساتھ طے پانے والا سہ فریقی معاہدہ بھی شامل ہے۔

