اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت کے سابق سربراہ رونن بار نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس دعوے کے لیے رونن بار نے نیتن یاہو کے اس بیان کو جواز بنایا ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے انٹیلیجنس چیف پر سنگین الزمات عائد کیے تھے۔
حماس کے 2023 کے حملے کے وقت اسرائیل کے انٹیلیجنس چیف رونن بار کے بقول وزیراعظم نیتن یاہو نے مجھ پر حماس کے حملے کی اطلاع ہونے کے باوجود حکومت کو نہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرکے میری ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
رونن بار نے مقدمے میں 30 لاکھ شیکل یعنی تقریباً 9 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ حملے سے قبل اور اس کے ابتدائی اوقات میں انہوں نے متعدد مرتبہ خطرات سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے۔
عدالتی درخواست کے مطابق رونن بار نے 23 جولائی 2023 کو نیتن یاہو سے محفوظ ٹیلی فون لائن پر گفتگو کے دوران ممکنہ جنگ کے بارے میں تزویراتی انتباہ دیا تھا۔ 21 اگست کو بھی انہوں نے غزہ سے حملوں میں اضافے اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
رونن کے مطابق، یکم اکتوبر 2023 کو انہوں نے خبردار کیا تھا کہ فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی تجویز بھی دی تھی، جس پر عمل نہیں کیا گیا۔
سابق انٹیلی جنس سربراہ نے اعتراف کیا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے حوالے سے شن بیت بھی انٹیلی جنس فراہم کرنے میں ناکام رہا اور اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے استعفیٰ دیا۔
واضح رہے کہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملے میں 1500 اسرائیلی مارے گئے تھے جبکہ 250 کو یرغمال بناکر غزہ لایا گیا تھا جنھیں فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا گیا۔ اس ناکامی پر رونن بار نے انٹیلیجنس چیف کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔

