ریاض: سعودی دارالحکومت ریاض میں ممکنہ فضائی خطرے کے الرٹ کے بعد تین زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے شہر کی جانب داغے گئے حوثی بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا، تاہم دھماکوں کی نوعیت اور نقصان کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
مقامی باشندوں نے شہر میں تین دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جبکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ واقعات میزائل یا ڈرون حملے سے متعلق تھے۔ سعودی حکام نے شہریوں کو موبائل الرٹس کے ذریعے دشمنانہ فضائی خطرے سے آگاہ کیا تھا۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے بعد ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے اور متعدد ایئر لائنز نے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
سعودی عرب نے یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ حوثی میزائل اور ڈرونز کو روکنے میں فضائی دفاعی نظام کیوں ناکام رہا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق حوثیوں نے پہلے متعدد ڈرونز داغے تاکہ سعودی دفاعی نیٹ ورک کو الجھایا جا سکے، اس کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
دریں اثنا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور اطلاعات کے مطابق انہیں بنکر سہولت والے محفوظ مقامات کے درمیان منتقل کیا جا رہا ہے۔ سعودی حکام نے میزائل یا ڈرون حملوں کی ویڈیو بنانے اور معلومات شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔

