مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔ تصویر: پی ٹی آئی
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری تحریک کے بیچ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راہل گاندھی پر ایس آئی آر کے بہانے ’دراندازوں‘ کو بچانے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم، وزارت داخلہ نے خود آر ٹی آئی کے جواب میں تسلیم کیا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں پہچانے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر کیے گئے ’دراندازوں‘ کے اعداد و شمار مرکزی سطح پردستیاب نہیں ہیں۔
نئی دہلی:ملک کےالگ الگ حصوں میں ایس آئی آرکے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے بیچ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر ’دراندازوں‘کو ووٹرلسٹ میں شامل کرانے کی مبینہ مہم چلانے کا الزام لگایا ہے۔ لیکن مبینہ دراندازوں کی پہچان، گرفتاری اور ملک بدری سے متعلق اعداد و شمار کے بارے میں وزارت داخلہ کا ایک آر ٹی آئی جواب شاہ کے دعوے پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
منگل، 13اکتوبر کو اپنے بیان میں شاہ نے کہا کہ ’راہل گاندھی کی ایس آئی آر کے بہانے دراندازوں کو بچانے کی سازش کو لوگ سمجھ چکے ہیں‘ انہوں نے راہل گاندھی اور ان کے ساتھیوں سے 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں ایک بار پھر بڑی شکست کے لیے تیار رہنے کو بھی کہا۔
SIR के बहाने घुसपैठियों को बचाने की राहुल गांधी की योजना देश समझ चुका है। https://t.co/Ivdjnu7gUB
— Amit Shah (@AmitShah) October 13, 2026
تاہم، دی وائر نے فروری 2026 میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی جانکاری کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں پہچانے گئے، گرفتار کیے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کے اعداد و شمار مرکزی سطح طور پر دستیاب نہیں ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب وزارت داخلہ کے پاس اس طرح کا مرکزی اعداد و شمار ہی دستیاب نہیں ہیں، تو دراندازوں کی تعداد اور انہیں ووٹر فہرست میں شامل کرانے کی مبینہ سازش کے بارے میں کیے جانے والے سیاسی دعووں کی بنیاد کیا ہے؟
وزارت داخلہ نے آر ٹی آئی میں کیا بتایا تھا؟
آر ٹی آئی کارکن کنہیا کمار نے وزارت داخلہ سے گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک بھر میں پہچانے گئے، پکڑے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کی سال کے حساب سے تفصیلات طلب کی تھیں۔ درخواست میں ان کی قومیت کی بنیاد پر بھی اعداد و شمار مانگے گئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ23جنوری 2026 کو دیے گئے جواب میں وزارت نے واضح کیا کہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں یا غیر قانونی تارکین وطن کی پہچان، گرفتاری اور ملک بدری سے متعلق اعداد و شمار مرکزی سطح پر اس کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔
وزارت نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ ’امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ، ‘2025کے تحت غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کا پتہ لگانے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور انہیں ملک سے باہر بھیجنے کے اختیارات ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو سونپے گئے ہیں۔
آسام میں بھی آر ٹی آئی سے نہیں ملی جانکاری
دراندازوں کی پہچان اور ملک بدری کے اعداد و شمار کولےکر آسام میں بھی صورتحال واضح نہیں ہو سکی تھی، حالاں کہ وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس طرح کے اختیارات ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو دیے گئے ہیں۔
دی وائرنے مارچ 2026میں اپنی ایک دوسری رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایک آر ٹی آئی کےتوسط سے آسام کے وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ سے گزشتہ دس برسوں کے دوران ریاست میں پہچانے گئے، پکڑے گئے اور ملک بدر یا واپس بھیجے گئے دراندازوں کی جانکاری طلب کی گئی تھی۔ درخواست میں ان کی قومیت کے لحاظ سے تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔
وزیر اعلیٰ کے سکریٹریٹ نے درخواست ریاست کے محکمہ داخلہ و سیاسی امور کو بھیج دی۔ محکمے نے جواب میں کہا کہ مطلوبہ معلومات اس کے پاس دستیاب نہیں ہیں اور یہ معلومات آسام پولیس بارڈر آرگنائزیشن کے پاس ہیں۔
محکمے نے یہ بھی بتایا کہ اس تنظیم کو آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 24(4)کے تحت معلومات فراہم کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم، اس استثنیٰ میں بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات کے لیے استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے۔
اس طرح، نہ تو مرکزی وزارت داخلہ سے ملک بھر کے اعداد و شمار حاصل ہو سکے اور نہ ہی آسام میں متعلقہ محکمے سے مطلوبہ معلومات مل سکیں۔
کانگریس نے امت شاہ سے پوچھے تین سوال
شاہ کے بیان کے بعد بدھ، 14اکتوبر کو کانگریس نے بھی جوابی حملہ کیا۔ پارٹی لیڈرجئے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر داخلہ سے تین سوال پوچھے۔
انہوں نے پوچھا کہ ایس آئی آر کے دوران کتنے دراندازوں کی شناخت کی گئی، کتنے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے اور کتنے لوگوں کو ملک سے ملک بدر کیا گیا۔
رمیش نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے معاملے میں دراندازوں کا مسئلہ اٹھا کر اصل سوال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، اصل مسئلہ لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 100کروڑ ہندوستانیوں کو ایس آئی آر کے عمل سے گزرنا پڑا ہے اور انہیں اس کے نتائج جاننے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت ان تقریباً 14 کروڑ ہندوستانیوں کو درانداز بتا رہی ہے، جن سے حق رائے دہی چھین لیے گئےہیں۔


