علامتی تصویر: جھارکھنڈ کے رانچی میں ایک بوتھ لیول افسر ایس آئی آر سے متعلق جانکاری کی تصدیق کرتے ہوئے۔تصویر: پی ٹی آئی
ایس آئی ار کے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ’منطقی تضادات‘ کے تحت نشان زد کیے گئے ووٹروں میں مسلمانوں کی حصہ داری 20.3 فیصد تھی۔ یعنی ہر ایک ہزار مسلمان ووٹروں میں سے 318 کو ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا۔ وہیں، غیر مسلم ووٹروں میں یہ تعداد ہر ایک ہزار میں 197 تھی۔
نئی دہلی: ڈرافٹ ووٹرلسٹ میں کل رائے دہندگان میں 13.6فیصد حصہ داری رکھنے والی مسلم برادری کے لوگوں میں سے 20.3 فیصد کوایس آئی آرکے عمل کے دوران ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ہے۔
دی ہندوکے ایک تجزیے کے مطابق، ان میں سے 30 فیصد ووٹروں کو خاندان کے افراد کی تعداد سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ہے۔
تجزیے میں پایا گیا کہ دہلی کی ڈرافٹ ووٹرلسٹ میں ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر کن ووٹروں کو نشان زد کیا جائے گا، اس کا فیصلہ ووٹر لسٹ کے لیے قانونی طور پر ذمہ دار افسران، یعنی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کے بجائے الیکشن کمیشن کا سینٹرلائزڈ ای آر او نیٹ سافٹ ویئر کر رہا تھا۔ اس کے ریکارڈ میں مسلم ووٹروں کی تعداد غیر متناسب طور پر زیادہ درج کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، دہلی میں ایس آئی آر کے تحت تیار کردہ ڈرافٹ ووٹرلسٹ میں 97.54 لاکھ ووٹر تھے۔ ان میں سے الیکشن کمیشن نے 33.12 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کرنے کے لیے نشان زد کیا تھا۔ ان میں سے 13.79 لاکھ ووٹروں کو ’پچھلی ایس آئی آر سے میپ نہیں ہونے‘ا ور 19.33 لاکھ کو آٹھ الگ الگ وجوہات کی بنیاد پر ’منطقی تضادات‘ کے زمرے میں نشان زد کیا گیا تھا۔
ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں تقریباً 13.3 لاکھ ووٹر مسلمان تھے، جو مجموعی ووٹروں کا تقریباً 13.6 فیصد ہیں۔
اخبار کے مطابق، پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے جن ووٹروں کا ملان نہیں ہو پایا، ان میں مسلمانوں کی حصہ داری 7.6 فیصد تھی۔ یعنی اس زمرے میں مسلمان ووٹروں کی شرح کم تھی۔ تاہم، ’منطقی تضادات‘ کے تحت نشان زد کیے گئے ووٹروں میں مسلمانوں کی حصہ داری 20.3 فیصد تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے،’دوسرے لفظوں میں، ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ہر ایک ہزار مسلم ووٹروں میں سے 318 کو ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا۔ وہیں، غیر مسلم ووٹروں میں یہ تعداد ہر ایک ہزار میں 197 تھی۔‘
الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق، ’منطقی تضادات‘ کے لیے آٹھ وجوہات طے کی گئی ہیں۔ ان میں نام کا میل نہ کھانا، خاندان کے افراد کی تعداد یا بچوں سے متعلق پانچ وجوہات، پچھلی ایس آئی آر میں والدین کو ’نااہل‘ قرار دیا جانا اور آخری زمرے میں ’کوئی وجہ درج نہ ہونا‘ شامل ہیں۔
دہلی میں ایس آئی آر کے دوران اس آخری زمرے کے تحت تقریباً 60 ہزار ووٹروں کو نشان زد کیا گیا، جن میں مسلمانوں کی حصہ داری غیر متناسب طور پر زیادہ، یعنی تقریباً 20 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق، دوسرےوسیع زمرے میں مسلمان ووٹروں کو نشان زد کیے جانے کا تناسب کہیں زیادہ تھا۔ اس زمرے میں خاندان کے افراد کی تعداد سے متعلق وجوہات شامل ہیں، مثلاً چھ یا اس سے زیادہ بچے ہونا، والدین کی عمروں میں 50 سال سے زیادہ کا فرق، دادا دادی کی عمروں میں 40 سال سے کم کا فرق، دو بچوں کی عمروں میں نو ماہ سے کم کا فرق اور والدین کی عمروں میں 15 سال سے کم کا فرق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ وجوہات کی بنیاد پر نشان زد کیے گئے 6.75 لاکھ ووٹروں میں سے 30 فیصد مسلمان تھے۔ یہ مسودہ ووٹر فہرست میں ان کی 13.6 فیصد حصہ داری سے دوگنے سے بھی زیادہ ہے۔
اسی طرح، چھ یا اس سے زیادہ بچے ہونے کی وجہ سے نشان زد کیے گئے 1.4 لاکھ ووٹروں میں مسلمانوں کا تناسب 58 فیصد تھا۔ یہ مجموعی ووٹروں میں ان کی حصہ داری سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔
دی ہندوکی رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے طے کردہ معیار مختلف مذہبی برادریوں میں شرحِ پیدائش کے فرق کی وجہ سے الگ الگ اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
تاہم، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کی حالیہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں تمام مذہبی برادریوں کی شرح پیدائش میں کمی آئی ہے۔
ایسے میں ان نتائج سے یہ سوال اٹھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ان معیارات کو کس بنیاد پر تیار کیا ہے اور کیا ان کا اثر مسلم ووٹروں پر غیر متناسب طور پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔
اب تک الیکشن کمیشن نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ایس آئی آر کی مسودہ ووٹر فہرست میں کسی ووٹر کو ’منطقی تضادات‘ کی بنیاد پر نشان زد کرنے کے لیے کن وجوہات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

