بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ، دنیا کے 20 فیصد بچے انتہائی غربت میں

child 151026 d


نیو یارک: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نجات معلا مجید نے کہا ہے کہ جنگیں، قدرتی آفات، غربت اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بچوں کے خلاف تشدد کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ محض وعدوں کے بجائے مؤثر اقدامات، کافی مالی وسائل اور مضبوط عالمی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی آخری رپورٹ پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات، قدرتی آفات اور موسمیاتی بحران کے باعث تقریباً 45 ملین بچے بے گھر ہیں۔ انہوں نے غذائی عدم تحفظ اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار توسیع کو بھی بچوں کے تحفظ کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
نجات معلا مجید کے مطابق دنیا میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ، یعنی تقریباً 20 فیصد بچے، انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف غریب ممالک تک محدود نہیں بلکہ خوشحال ممالک میں بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے فوائد کے ساتھ بچوں کے جنسی استحصال، سائبر غنڈہ گردی، جعلی ڈیجیٹل مواد اور بچوں کو جرائم میں ملوث کرنے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 20 برسوں میں قوانین اور پالیسیوں میں بہتری آئی ہے، تاہم ان کے عملدرآمد اور بچوں تک ضروری خدمات کی رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط سیاسی عزم، عملی خدمات اور مالی وسائل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی اتحاد میں 55 ممالک شامل ہو چکے ہیں اور مزید ممالک بھی شامل ہو رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ