خیبرپختونخوا پولیس نے جمعے کو بتایا ہے کہ پشاور کے گنجان آباد علاقے یکہ توت میں کامیاب کارروائی کے دوران 11 کلوگرام وزنی پریشر ککر بم ناکارہ بنا دیا گیا۔
خیبرپختونخوا پولیس کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یکہ توت کے علاقے حافظ آباد میں واقع ایک بند مکان 5 سے 6 ماہ قبل ایک افغان خاندان کو کرائے پر دیا گیا تھا، تاہم تعمیری کام کے لیے مکان کھولنے پر مشکوک پریشر ککر پایا گیا، جس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔
بیان کے مطابق بم کی موجودگی کی اطلاع پر ایس پی سٹی پشاور شاہد عدنان، متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او ریاض آفریدی اور بم ڈسپوزل سکواڈ (بی ڈی ایس) نے بروقت کارروائی کی اور تقریباً 11 کلوگرام پریشر ککر بم کو ناکارہ بنا دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’مقدمے کے اندراج کے لیے سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔‘
انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بروقت اور موثر کارروائی پر پشاور پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’گنجان آباد علاقے میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا کر پشاور پولیس نے درجنوں قیمتی جانیں بچائیں۔‘
آئی جی ذوالفقار حمید کا مزید کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے ناسور کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے اور عوام کے تحفظ کے لیےکوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔‘
خیبرپختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 2025 کے دوران عسکریت پسندی کے 1,588 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

