وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں سے ملاقاتیں، برآمدات میں اضافے اور کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے پر زور

finance minister meeting1792145660 0



وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے برآمدات پر مبنی ترقی، آئی ٹی برآمدات میں اضافے، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت بہتر بنانے اور قرضوں کی پائیداری کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے ڈبل بی درجے کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق، انہوں نے ان خیالات کا اظہار تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر امریکی محکمۂ خزانہ کی انڈر سیکریٹری برائے بین الاقوامی امور ایرن براؤن سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، اصلاحات اور بیرونی مالی معاونت سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے ستمبر میں پاکستان کی جانب سے 3 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈ کے اجرا اور صکوک، پانڈا بانڈز اور دیگر مالیاتی ذرائع کے ذریعے مالی وسائل کے حصول میں تنوع پیدا کرنے کے منصوبوں کو اجاگر کیا۔

انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس اصلاحات، مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول اور زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے سے متعلق آگاہ کیا۔

ملاقات میں علاقائی تنازع کے توانائی، مہنگائی اور غذائی تحفظ پر اثرات کے ساتھ ساتھ رسد برقرار رکھنے اور موسمِ سرما کی طلب کو پورا کرنے کے لیے تیاریوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزیرِ خزانہ نے برآمدات پر مبنی ترقی، آئی ٹی برآمدات میں اضافے، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت بہتر بنانے اور قرضوں کی پائیداری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے ڈبل بی درجے کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔

وزیرِ خزانہ نے نجکاری، ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے، بوئنگ کے ساتھ روابط اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (یو ایس ایگزم بینک) سے ممکنہ مالی معاونت پر بھی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکا کی جانب سے مسلسل تعاون پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، وزیرِ خزانہ کی ڈوئچے بینک کے وفد سے بھی ملاقات ہوئی جس میں مالیاتی حکمتِ عملی، عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی اور نجکاری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کو اجاگر کیا۔

جاری اعلامیہ کے مطابق نجی سرمایہ کاری، پانڈا بانڈز اور یورو بانڈز کے ذریعے پاکستان کی عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کا جائزہ لیا گیا۔ صکوک، روپے میں متعین اور ڈالر میں ادائیگی کے حامل بانڈز اور یورو بانڈز کو ٹوکنائز کرنے کے ممکنہ منصوبے کے ذریعے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے پر گفتگو ہوئی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ