کراچی:
نیب کراچی نے عدالتی حکم پر 1989 سے 2020 تک کی بھرتیوں کی تفصیلات کے ساتھ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذمہ دار افسران کو 20 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔
احتساب بیورو کی جانب سے ارسال خط میں بتایا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ نے 30 جون 2026 کو حکم جاری کیا تھا اور مشترکہ تفتیشی ٹیم کا 15 جون 2026 کو اجلاس ہوا تھا۔
خط کے متن کے مطابق یہ تحقیقات سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ کی ہدایات اور احکامات کے بعد شروع کی گئی ہیں، کیونکہ 2020 سے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بار بار خطوط اور یاد دہانیوں کے باوجود مطلوبہ مکمل ریکارڈ آج تک نیب کو فراہم نہیں کیا۔
نیب خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ریکارڈ کی مسلسل عدم فراہمی سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں تاخیر کا باعث بن رہی ہے اور یہ ریکارڈ غیر قانونی تقرریوں کے ذمہ دار افسران و اہلکاران کی نشاندہی کے لیے ناگزیر ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 20 اکتوبر کو نیب کراچی میں مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہو کر انکوائری میں شامل ہوں اور 1989 سے اساتذہ، ٹیکنیشنز اور دیگر عملے کی آسامیوں پر تقرریوں کی مکمل معلومات ساتھ لے کر آئیں۔

