لندن — مشہور آئرش ناول نگار سیلی رونی کی کتابیں اب برطانیہ میں فروخت نہیں کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ اس کے بعد سامنے آیا کہ رونی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی برطانیہ میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم ”فلسطین ایکشن“ کی حمایت کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
رونی کے ناشر فیبر نے بتایا کہ اس نے مصنفہ سے اتفاق کیا ہے کہ برطانیہ میں کسی بھی فارمیٹ میں ان کی کتابیں فراہم نہیں کی جائیں گی۔ تاہم ان کی کتابیں دیگر ممالک میں فروخت ہوتی رہیں گی۔
ناشر کے مطابق، برطانیہ کی موجودہ قانون سازی نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں فیبر رونی کو برطانیہ میں فروخت ہونے والی کتابوں کی رائلٹی منتقل نہیں کر سکتا۔ ناشر نے کہا کہ کسی مصنف کی کتابیں فروخت کرنا اور اس کی آمدنی ان تک نہ پہنچانا ناقابلِ قبول اور غیر اخلاقی ہے۔
”نارمل پیپل“ اور ”کنورسیشنز ود فرینڈز“ جیسی مقبول کتابوں کی مصنفہ سیلی رونی فلسطین ایکشن کی کھل کر حمایت کرتی رہی ہیں۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ سال اس گروپ کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔ رونی نے اس پابندی کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں دائر چیلنج میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اس منصوبے کے نتیجے میں ان کی کتابیں برطانیہ میں واپس منگوائی جا سکتی ہیں۔
سیلی رونی نے کہا کہ انہوں نے عوام کے سامنے اپنے عقائد اور ارادوں کے بارے میں ایمانداری سے پیش آنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور وہ اس فیصلے کے نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
برطانوی حکومت کے اس دعوے کے بعد کہ فلسطین ایکشن کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے، گروپ کی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، تاہم تنظیم نے یہ الزام سختی سے مسترد کیا ہے۔ پابندی کے باوجود گروپ نے آن لائن عطیات کی اپیل جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ شریک بانی ہدیٰ عموری اگلے ماہ سپریم کورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کریں گی۔
ہائی کورٹ نے پہلے اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا، لیکن کورٹ آف اپیل نے ہوم آفس کے حق میں یہ فیصلہ کالعدم کر دیا۔ برطانیہ میں اس گروپ کی حمایت کے الزام میں ہزاروں کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں بینڈ ”میسیو اٹیک“ کے رابرٹ ڈیل نجا بھی شامل ہیں۔
رونی نے گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے ”انسدادِ دہشت گردی قانون کا انتخابی نفاذ“ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین ایکشن کسی بھی موت کی ذمہ دار نہیں اور اس نے کبھی کسی انسان کے خلاف تشدد کی وکالت نہیں کی۔

