کراچی:
آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں ایک سال تک روڑے اٹکانے والے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور وزارت صنعت وپیداوار کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔
یہ مطالبہ ایسوسی ایشن کے چئیرمین میاں شعیب نے جمعہ کو چوہدری عامر، طارق راجپوت اعجاز احمد اور پاکستان بھر سے آئے ہوئے علاقائی سربراہوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ کے باعث ستمبر 2025 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر پابندی ختم ہوئی جس سے آٹوموٹیو سیکٹر میں صحت مند مسابقت کی فضاء پیدا ہوئی کیونکہ مقامی اسمبلرز نہ لوکلائزیشن کررہے تھے اور نہ ہی مینوفیکچرنگ بلکہ صارفین کو 3گنا زائد قیمتوں پر اپنی گاڑیاں فروخت کرتے چلے آرہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ حکمت کے اعلان کردہ پالیسی کو ای ڈی بی اور وزارت صنعت وپیداوار کے کچھ افسران نے اسمبلرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمدات کو سبوتاژ کیا اور واضح پالیسی کے باوجود ملک میں ایک سال استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمدات نہ ہوسکی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3ماہ میں صرف پرسنل بیگیج، گفٹ اسکیم کے تحت تقریبا 4ہزار یونٹس امپورٹ ہوئے ہیں لہذا اے پی ڈی اے کا وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ وزارت صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے ان افسران کے خلاف شفاف تحقیقات کا آغاز کریں جو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کی پالیسی کو ناکام کرانے کے درپے تھے اور روڑے اٹکاتے رہے۔
ایک سوال کے جواب میں میاں عامر نے بتایا کہ ایک سالہ وقفے کے بعد ستمبر 2026 سے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ شروع ہوگئی ہیں تاہم حکومت سے درخواست ہے کہ وہ استعمال شدہ ڈیوٹی وٹیکس کی شرح میں کمی کرے کیونکہ فی الوقت امپوٹڈ استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمت سے 200 تا 569فیصد زائد ڈیوٹی وٹیکس عائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی ٹیکس ٹیرف میں کمی سے ناصرف کم قیمتوں پر معیاری امپوٹڈ گاڑیاں عام آدمی کی دسترس میں آسکیں گی بلکہ ریونیو کی مد میں بھی خطیر اضافہ ممکن ہوسکے گا۔

