سی جے پی کے احتجاجی مظاہرہ کے خلاف عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا

Connaught Place PTI10 16 2026 000056B scaled 1 e1792136449443


جمعہ، 16اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے کناٹ پلیس واقع سینٹرل پارک میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے قبل تعینات سکیورٹی اہلکار۔تصویر: پی ٹی آئی

ایک عرضی میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے باعث کناٹ پلیس کے آس پاس سرگرمیاں متاثر ہونے سے روزانہ 250 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر دہلی میں احتجاجی مظاہروں کی وجہ سےتاجروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی روزی روٹی بری طرح متاثر ہوتی ہے تو وہ معاوضہ دلانے کے لیے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرے گا۔

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ (16 اکتوبر) کو زبانی طور پر کہا کہ اگر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی ریلی کے سبب حکام کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے کناٹ پلیس کے تاجروں کے کاروبار کو نقصان ہوتا ہے-جسے عدالت غیر قانونی مانتی ہے-تو وہ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرے گی۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی کی بنچ نے کہا کہ اگر نئی دہلی میونسپل کونسل(این ڈی ایم سی)کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں ضرورت سے زیادہ سخت پائی جاتی ہیں تو عدالت معاوضہ کے لیے طے شدہ اصولوں کے مطابق کارروائی کرے گی۔

سی جے پی نے اپنے رہنماؤں آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کی گرفتاری کے خلاف جمعہ کی شام پانچ بجے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ترنگا لہرانے کی اپیل کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کو جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر مقررہ فہرست سے ہٹائے جانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ سی جے پی نے اپنے اس پروگرام کو ’لہرا دو ترنگا‘کا نام دیا ہے۔

مجوزہ پروگرام سے قبل سینٹرل دہلی میں تقریباً 32ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی امید ہے۔ اکتوبر کی شروعات میں احتجاج شروع ہونے کے بعد سے دہلی پولیس کے وسیع سکیورٹی انتظامات کے باعث عام زندگی اور کاروبار، دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’پرامن احتجاج سے کاروبار متاثر نہیں ہوتا۔ کاروبار اس وقت متاثر ہوتا ہے جب حکومت پورے شہر کو بند کرنے، انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے اور اپنے ہی شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرتی ہے اور شہر کو جنگ کے میدان میں تبدیل کر دیتی ہے۔‘

عدالت نے دسہرہ کی چھٹیوں کے بعد 26 اور 27اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

وکیل جے اننت دیہادرائی نے دہلی کرانہ سمیتی اور دہلی آئرن اینڈ ہارڈویئر مرچنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر عرضی کا ذکر کیا۔ ان تنظیموں نے سینٹرل پارک میں احتجاج کی اپیل پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ دیہادرائی کے مطابق، اس سے روزانہ 200 کروڑ روپے کے کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔

تاہم، لائیو لا کی رپورٹ میں دیہادرائی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نئی دہلی میونسپل کونسل(این ڈی ایم سی)نے گزشتہ رات ایک نوٹس جاری کرکے سینٹرل پارک کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرضیاں پابندیوں کے بجائے احتجاجی مظاہروں سے متعلق ہیں۔

بنچ نے توجہ دلائی کہ دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی اسی طرح کے معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ ایک روز قبل دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے ’تمام ممکنہ اقدامات‘کرے گی۔ تاہم، ہائی کورٹ نے احتجاج پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا تھا۔

جسٹس جوائے مالیہ باگچی نے کہا،’یہ کوئی الگ معاملہ نہیں ہے۔ یہ تمام معاملےایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی احتجاج کرنا چاہتا ہے، کوئی مونگ پھلی بیچنا چاہتا ہے اور کوئی امن و امان  برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ تمام باتیں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔‘

تہواروں کے موسم کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا،’ہمیں امید ہے کہ تمام لوگ بہتر سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں گے…ہم جانتے ہیں کہ تمام چھوٹے دکاندار انہی دنوں میں اپنی روزی کماتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خاندانوں کو کتنی دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

جسٹس باگچی نے کہا،’اگر کاروبار کو نقصان ہوتا ہے اور ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کے مؤکلوں کے ساتھ ہوا یہ نقصان غیر قانونی ہے، تو ہم آئینی خلاف ورزی کے تحت دستیاب اختیارات کا استعمال کریں گے۔ جب ایسی صورتحال پیدا ہوگی، تب اس سے نمٹا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا،’اگر ہمیں لگتا ہے کہ این ڈی ایم سی کا آرڈر ضرورت سے زیادہ سخت پابندیاں لگاتا ہے، تو ہم نے آپ سے کہا ہے کہ اس عدالت کے پاس معاوضے دلانے اور عوامی قانون کے تحت کارروائی کرنے کے لیے خاطر خواہ اختیارات موجود ہیں۔ ہم کارروائی کریں گے۔‘



Source link

متعلقہ پوسٹ