
(ویب ڈیسک)خواتین کے گھریلو کام اور میک اَپ سے متعلق بیان پر جاپانی وزیراعظم شدیدتنقید کی زد میں آگئیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے پارلیمانی اجلاس کے دوران اپنے مصروف معمولات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں صبح نہانے، ناشتہ تیار کرنے، برتن دھونے اور میک اَپ کرنے میں اضافی وقت صَرف کرتی ہوں۔
سانائے تاکائیچی کے بیان پر بعض افراد نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اس بیان سے خواتین کے گھریلو کاموں کو روایتی طور پر ان کی ذمہ داری سمجھنے کے تصور کو تقویت ملتی ہے۔
جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے اس بیان پر بحث چھڑ گئی ہے کہ گھریلو کام اور میک اَپ کی وجہ سے مجھے سابق مرد وزرائے اعظم کے مقابلے میں روزانہ 3 سے 4 گھنٹے زیادہ وقت صَرف کرنا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جاپانی خواتین روزانہ گھریلو کاموں پر تقریباً 5 گھنٹے صرف کرتی ہیں جبکہ مردوں کا یہ دورانیہ تقریباً 40 منٹ ہے،اس حوالےسے ناقدین کا کہنا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کو بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگ رشتے داروں کی خدمت جیسی اضافی ذمے داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا میڈیکل کے طلباء و طالبات کے متعلق اہم فیصلہ
جاپانی وزیراعظم کے مصروف شیڈول پر اس حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ سانائے تاکائیچی پارلیمانی بحث میں شرکت کے لیے ناکافی وقت نکالتی ہیں۔

