پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان اور گبد ریمدان کی سرحدی گزرگاہوں پر ہفتے کو درآمدات، برآمدات اور ٹرانزٹ سمیت تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
پاکستانی حکام نے سرحدی انتظامات میں بہتری اور بعض قانونی و تکنیکی معاملات کو اس اقدام کی وجوہات قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر سے زائد بتایا جاتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل بلوچ کے مطابق سرحدی انتظامات سخت کرنے کا اقدام عارضی ہے اور اس کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مدد دینا ہے۔
دوسری جانب ایوانِ صنعت و تجارت کوئٹہ نے ایران سے درآمدات کے لیے EIF Waiver میں توسیع کا حکم نامہ واپس لیے جانے کے بعد تاجروں کو نئی خریداری اور مال کی بکنگ روکنے کا مشورہ دیا ہے۔
دونوں سرحدی راستے دوطرفہ تجارت کے علاوہ ٹرانزٹ سامان کی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں، جس کے باعث تجارتی سرگرمیوں کی معطلی سے درآمدکنندگان، برآمدکنندگان اور مال بردار گاڑیوں کے آپریٹرز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
’سرحد بند نہیں، صرف تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں‘
چاغی میں تعینات ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد کی بندش سرحدی انتظامات بہتر بنانے کے لیے ایک عارضی اقدام ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مدد دینا ہے اور مؤثر انتظامات نافذ ہونے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔
تاہم تفتان میں تعینات ایک اعلیٰ اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی گئی بلکہ بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہوئی ہیں۔
اہلکار کے مطابق ایران کی جانب سے امیگریشن کا عمل جاری ہے اور سرحدی گیٹ بھی کھلا ہے۔
دوسری جانب وزارت صنعت و تجارت کے ترجمان نوید الحق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں تصدیق کی کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد تجارت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
’اسلام آباد سے دونوں تجارتی گیٹ بند رکھنے کی ہدایات ملیں‘
کسٹم حکام کے ایک افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جمعے کو ایران میں عام تعطیل کے باعث تفتان اور گبد ریمدان 250 کے تجارتی گیٹ بند تھے، تاہم ہفتے کو اسلام آباد سے ہدایات موصول ہوئیں کہ ایران کے ساتھ دونوں تجارتی گزرگاہیں بند رکھی جائیں۔
افسر کے مطابق ان ہدایات سے متعلق ایرانی حکام کو جمعے کی شب ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ صرف ان مال بردار گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کی گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) پہلے ہی جمع ہو چکی ہے۔
تاہم کسٹم افسر کے مطابق سرحدی گیٹ بند ہونے کے باعث یہ گاڑیاں بھی فی الحال پاکستان میں داخل نہیں ہو سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دونوں تجارتی راستوں سے درآمدات، برآمدات، ٹرانزٹ اور بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سمیت ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
تاجروں کو نئی بکنگ روکنے کی ہدایت
ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر احمد گل نے انڈپینڈنٹ اردو کو جاری بیان میں کہا کہ وزارت تجارت کی جانب سے ایران سے درآمدات کے لیے EIF Waiver میں توسیع کا حکم نامہ واپس لیے جانے کے بعد تاجروں کو نئی خریداری اور مال کی بکنگ فی الحال روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
احمد گل کے مطابق وزارت تجارت نے 16 اکتوبر 2026 کو آفس میمورنڈم نمبر 9(3)/2017-IRAN کے ذریعے ایران سے درآمدات کے لیے EIF Waiver میں توسیع سے متعلق تین اکتوبر 2026 کا حکم نامہ فوری طور پر واپس لے لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ایران سے درآمدات کرنے والے تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی نیا تجارتی معاہدہ کرنے یا مال کی بکنگ سے پہلے متعلقہ حکام سے موجودہ قانونی صورت حال کی تصدیق کریں۔
احمد گل کے مطابق EIF Waiver کی موجودہ حیثیت واضح نہ ہونے کے باعث درآمدی معاملات میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جن سے تاجروں کو مالی نقصان اور کسٹمز کلیئرنس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ نے اپنے ممبران کو ہدایت کی ہے کہ وزارت تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر متعلقہ اداروں سے وضاحت ملنے تک ایران سے نئی خریداری اور مال کی بکنگ عارضی طور پر روک دیں۔
ایوان کے مطابق اس ہدایت کا مقصد تاجروں کے مالی مفادات کا تحفظ اور درآمدی معاملات میں ممکنہ پیچیدگیوں سے بچنا ہے۔
پاکستان اور ایران کی تجارت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے اور تفتان اور گبد ریمدان کی گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان ان سرحدی راستوں کو ٹرانزٹ سامان کی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال کرتا ہے، اس لیے تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے اثرات صرف دوطرفہ درآمدات اور برآمدات تک محدود نہیں رہ سکتے۔
یہ صورت حال پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستوں کی بندش کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آئی ہے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تجارتی گزرگاہیں بند کر دی تھیں۔ اس بندش کو ایک سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک کی تاجر تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مجموعی تجارتی نقصانات کا تخمینہ دو ارب ڈالر سے زائد لگایا ہے۔
ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے حکام نے تاحال کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، تاہم چاغی کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرحدی انتظامات سے متعلق مؤثر اقدامات نافذ ہونے کے بعد گزرگاہیں دوبارہ کھول دی جائیں گی۔

