برسلز (نامہ نگار) — واشنگٹن کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیوں کے اعلان کے بعد یورپی یونین نے عدالت کو ممکنہ اثرات سے بچانے کے لیے اپنے ’بلاکنگ اسٹیچیوٹ‘ کو فعال کرنے سمیت مختلف اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ عدالت کے کام کو جاری رکھنے اور اس کے آپریشنز کو تحفظ دینے کے لیے تیاری جاری ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ بلاکنگ اسٹیچیوٹ نافذ کیا جائے گا یا نہیں، اور اگر کیا گیا تو کب۔
خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق یورپی کمیشن کی ترجمان سیوبھان میک گیری نے پیر کو برسلز میں دوپہر کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے آئی سی سی کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے بعد کمیشن اس معاملے پر یورپی یونین کے رکن ممالک سے رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق عدالت کے کام کو محفوظ رکھنے کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں عدالت کے دیگر رکن ممالک سے بھی مشاورت جاری ہے۔
ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا: ’’بلاکنگ اسٹیچیوٹ اب بھی زیرِ غور ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’اس کے نفاذ کے لیے ہمارے پاس کوئی حتمی تاریخ یا وقت نہیں ہے، اور نہ ہی ہم یہ پیشگی فیصلہ سنانا چاہتے ہیں کہ اسے نافذ کیا جائے گا یا نہیں۔ ہم اب بھی ایک ایسے بہتر حل کی امید کر رہے ہیں جس کے تحت عدالت اپنا اہم کام جاری رکھ سکے۔‘‘
بلاکنگ اسٹیچیوٹ یورپی یونین کا ایک قانونی طریقہِ کار ہے، جس کا مقصد یورپی کمپنیوں اور افراد کو بعض غیر ملکی پابندیوں کی تعمیل کرنے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کا مقصد ایسے اقدامات کے یورپی حدود سے باہر اثرات کا مقابلہ کرنا ہے جن کے ذریعے کوئی دوسری طاقت اپنے قوانین یا پابندیوں کو یورپی اداروں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی نافذ کرنا چاہے۔
اگر اس معاملے میں یہ طریقہِ کار فعال کیا جاتا ہے تو اس سے امریکی پابندیوں کے باعث عدالت کے ساتھ کام کرنے والے یورپی اداروں، خدمات فراہم کرنے والوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یورپی یونین کون سے قانونی اور انتظامی اقدامات اختیار کرتی ہے۔
میک گیری نے بتایا کہ کمیشن عدالت کے رکن متعدد ممالک سے بھی مشاورت کر رہا ہے تاکہ اگر امریکی پابندیاں مؤثر ہو جائیں تو آئی سی سی کی سرگرمیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے زیرِ غور اقدامات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، البتہ کہا کہ نیدرلینڈز اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا صدر دفتر نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع ہے۔
یہ پیش رفت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے عدالت کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ روبیو نے عدالت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے ان کے بقول اپنے ’خطرات‘ کا سلسلہ بند نہ کیا تو امریکہ آئی سی سی کو ’ختم‘ کر دے گا۔
امریکی اقدامات کے تناظر میں یورپی یونین کے سامنے یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ وہ عدالت کی خودمختاری اور روزمرہ کارروائیوں کو ممکنہ بیرونی دباؤ سے کس طرح محفوظ رکھ سکتی ہے۔ آئی سی سی ایک آزاد بین الاقوامی عدالتی ادارہ ہے، جو نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور جارحیت کے جرم کے الزامات کی تحقیقات اور مقدمات چلانے کا ذمہ دار ہے۔
ایسے ادارے پر پابندیوں کے ممکنہ اثرات صرف اس کے عہدیداروں تک محدود نہیں رہ سکتے، بلکہ مالیاتی لین دین، کاروباری خدمات اور عدالت کے ساتھ تعاون کرنے والے اداروں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یورپی کمیشن کے سامنے موجود چیلنج یہ ہے کہ عدالت کی کارروائیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے ساتھ یورپی اداروں کو بھی ایسے امریکی اقدامات کے اثرات سے بچایا جائے جو یورپی حدود میں ان کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کمیشن کے مطابق اس سلسلے میں مشاورت اور تیاری جاری ہے، لیکن بلاکنگ اسٹیچیوٹ کے نفاذ کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یورپی یونین نے امریکی پابندیوں کے خلاف یہ قانونی اقدام نافذ کر دیا ہے۔

