اسلام آباد:
روس نے پیر کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی پیشکش کردی ۔
پاکستان میں روسی سفیر البرٹ خوریف نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی ) میں پاکستان روس تعلقات پر ایک گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ماسکو ان کے اختلافات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
خوریف نے کہا کہ پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش سے وسطی ایشیا اور روس کے ساتھ پاکستان کا تجارتی رابطہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاک افغان سرحد دوبارہ کھل جائے گی اور اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی۔
روسی سفیر نے انکشاف کیا گزشتہ ہفتے روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیو کے دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی کا معاملہ نمایاں طور پر زیر بحث آیا۔
واضح رہے کہ روس پہلا اور واحد ایسا ملک ہے جس نے گزشتہ سال افغانستان کو تسلیم کیا ہے۔
رواں سال مئی میں روس اور افغانستان نے ایک فوجی۔ تکنیکی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
اس معاہدے کے مکمل دائرہ کار عام نہیں کیا گیا ۔طالبان کے بارے میں روس کا نقطہ نظر بعض اوقات پاکستان کے بڑھتے ہوئے تنقیدی موقف سے بالکل مختلف رہا ہے۔
ان اختلافات کے باوجود اسلام آباد نے ممکنہ روسی کردار کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے۔ جمعرات کے روز اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی پیر کے روز ہونے والے مباحثے سے خطاب کیا اور دوطرفہ تعلقات کی وسعت اور ان میں موجود عملی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔

