ملتان کی نجی سوسائٹی میں کار سے کچل کر ہلاک ہونے والے 15 سالہ یتیم بچے کی نماز جنازہ ادا

waseem abbas1792459399 0



مظفر گڑھ:

ملتان کی ایک نجی سوسائٹی میں کار سے کچل کر ہلاک ہونے والے 15 سالہ وسیم عباس کی نماز جنازہ رات گئے مظفرگڑھ کے موضع دولت پور میں ادا کردی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث نماز جنازہ فوری طور پر ادا کی گئی، جس کے بعد وسیم کو اس کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں صرف قریبی رشتہ داروں اور یتیم خانے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

بچے کے چچا نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم توقیر نے ان کے بھتیجے کو جان بوجھ کر گاڑی سے کچل کر مارا جبکہ یتیم خانے کے جنرل سیکریٹری نے بھی واقعے کی ویڈیو پر سوالات اٹھاتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

یتیم خانے کے جنرل سیکریٹری شعیب حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وسیم عباس گزشتہ پانچ سال سے ان کے یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا۔ ملزم توقیر کے پاس وسیم گزشتہ چھ روز سے موجود تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے تسلی کرنے کے بعد وسیم کو توقیر کے پاس بھیجا تھا، جس کی 40 سے 45 لڑکوں پر مشتمل ٹیم ہے۔

شعیب حیدر کا کہنا تھا کہ توقیر کے خلاف ماضی میں کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی اور اس کے پاس یتیم خانے کا ایک اور لڑکا بھی کام کررہا تھا، تاہم واقعے کے بعد اسے واپس بلالیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم توقیر کا کہنا ہے کہ وسیم پیدل بھاگتے ہوئے تھک گیا تھا، جس پر اس نے گاڑی سے اس کا پیچھا کیا۔ ملزم کے مطابق گاڑی اس سے بے قابو ہوئی، لیکن ویڈیو میں بظاہر ایسا دکھائی نہیں دیتا اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بچے کو گاڑی سے ٹکر ماری گئی ہو۔ شعیب حیدر نے کہا کہ یہ بات تفتیش کے دوران سامنے آئے گی کہ وسیم ملزم سے کس وجہ سے بھاگا تھا۔

وسیم عباس کے چچا جعفر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ توقیر نے ان کے بھتیجے کو خود مارا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیم کی لاش کی جو حالت تھی، اسے دیکھ کر وہ شدید صدمے میں ہیں اور انہیں انصاف چاہیے۔

جعفر حسین کے مطابق وسیم کے والد کا انتقال نو سال قبل ہوگیا تھا، جس کے بعد ابتدا میں اس کی کفالت نانا نے کی اور پھر دو سے تین سال تک انہوں نے خود اس کی ذمہ داری اٹھائی۔ بعد ازاں وسیم کو اس کے نانا اور چچا نے یتیم خانے میں داخل کروایا۔ وسیم کا بھائی اور کزن بھی اسی یتیم خانے میں رہائش پذیر تھے۔

وسیم کے ساتھ یتیم خانے میں رہنے والے اس کے کزن ندیم نے بتایا کہ وہ خود گزشتہ چھ سال سے یتیم خانے میں مقیم ہے۔ اس کے مطابق وسیم شرارتیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ الیکٹریشن کے پاس کام سیکھنے نہیں جائے گا بلکہ گھر واپس جانا چاہتا ہے۔ ندیم نے بتایا کہ وہ توقیر کو نہیں جانتا اور نہ ہی کبھی اس سے ملا ہے۔ جب سے وسیم الیکٹریشن کا کام سیکھنے گیا تھا، اس کے بعد وہ واپس نہیں آتا تھا۔

وسیم کے نانا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہی وسیم کو یتیم خانے میں داخل کروانے کے لیے لائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ سوچ کر بچے کو یتیم خانے میں داخل کروایا تھا کہ یتیم بچہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے تعلیم حاصل کرسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وسیم کی موت کے ذمہ دار ملزم کو سزا دی جائے۔

اہل علاقہ کے مطابق وسیم کے والد کے انتقال کے بعد اس کی والدہ کی شادی اس کے چچا سے کردی گئی تھی، جس کے باعث وسیم اور اس کے بھائی کو ان کے نانا نے یتیم خانے میں داخل کروایا تھا۔

وسیم کی موت کے واقعے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ