مراکش کی نئی وزیراعظم نے فلسطین کے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا

morocco prime minister d


رباط: مراکش کی نئی وزیراعظم فاطمہ الزہرا المنصوری نے پارلیمنٹ میں حکومتی پروگرام پیش کرتے ہوئے فلسطینی کاز کی حمایت اور دو ریاستی حل پر مبنی پرامن تصفیے کو خارجہ پالیسی کا مرکزی حصہ قرار دیا ہے۔
پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے المنصوری نے فلسطین اور یروشلم پر مراکش کے دیرینہ موقف کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کی حکومت ایسے پرامن حل کی حمایت کرے گی جو منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنائے۔
انہوں نے پانچ سالہ ایجنڈے میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی، سماجی فلاحی ریاست کی مضبوطی، نوجوانوں کو معیشت سے جوڑنے، قومی خودمختاری کے تحفظ اور پیداواری معیشت کی تعمیر کو شامل کیا۔
مراکش کی پہلی خاتون وزیراعظم المنصوری کی جماعت نے 23 ستمبر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد چار جماعتوں کے اتحاد کو 395 رکنی پارلیمنٹ میں 207 نشستیں ملیں، جو اکثریت کی ضرورت سے زیادہ ہیں۔
معاشی محاذ پر انہوں نے 2027 سے 2031 تک اوسط سالانہ 5 فیصد معاشی نمو کا ہدف دیا، جبکہ مالی خسارے کو جی ڈی پی کے 3 فیصد سے کم اور افراط زر کو 2 فیصد پر رکھنے کا عہد کیا۔ حکومت ٹیکس اصلاحات، سماجی امداد میں اضافے، خوراک کی قیمتوں میں کمی اور نجی سرمایہ کاری بڑھانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
المنصوری نے صحارا خطے کے لیے مراکش کی خودمختاری کی تجویز کو بین الاقوامی حمایت دلانے اور جنوبی صوبوں میں ترقی تیز کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ نئی حکومت مراکش، اسپین اور پرتگال کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے 2030 کے ورلڈ کپ کی 20 ارب ڈالر کی تیاری کے آخری مراحل کی نگرانی بھی کرے گی۔

متعلقہ پوسٹ