(انور عباس)مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی ایرانی صدر اور ایرانی مذاکراتی ٹیم سےالگ الگ ملاقاتیں ہوئی ہیں،ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
تفصیلات کے مطابق مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ کے ہمراہ ایران کے دورے پر ہیں،ایرانی ریاستی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی نے تصاویر جاری کر دیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی،ملاقات میں ایران نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران کی پیش کردہ سات شرائط پوری کیے بغیر ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی نقل و حرکت ایران کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ میں نے امریکی نائب صدر کو واضح طور پر بتایا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد میں امریکہ کے ایران مخالف طویل منفی اقدامات نے ہمارے دلوں میں امریکہ کے حوالے سے گہری بداعتمادی پیدا کر دی ہے۔
باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی خلاف ورزی اور بار بار دی جانے والی دھمکیوں نے اس بداعتمادی کو پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے، ہمارے پاس کہنے کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔
سپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہاکہ امریکہ ایران کا اعتماد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ نیویارک میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط پوری نہیں کرتا،ان کا کہناتھا کہ دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا،دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے تزویراتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔
باقر قالیباف نے کہاکہ امریکہ نے غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑ کر خود کو ایک دلدل میں پھنسا لیا ہے،اب امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دلدل سے نکلنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔
ارنا نے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی تصویر جاری کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:گلوکارہ نمرہ مہرہ کا نیا گانا مجال ریلیز

