ڈملوٹی کے کنویں – ایکسپریس اردو

dimloti1792532319 0


کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور ایک ایسا شہر ہے جہاں سمندر سامنے ہے مگر پینے کا صاف پانی مُستقبل کا سب سے بڑا چیلنیج معلوم ہوتا ہے۔

یہاں لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی پانی کی فراہمی، ٹینکر کے خطیر اخراجات اور غیریقینی ترسیل سے جُڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں ملیر کے تاریخی مقام ڈملوٹی سے ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں تک روزانہ 10 ملین گیلن پانی پہنچانے کے نئے منصوبے پر عملی پیش رفت صرفِ ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ کراچی کے مستقبل کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

کراچی کی آبی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ڈملوٹی کا نام ایک جدید روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل جب کراچی ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا مشرقی بندرگاہ بن رہا تھا اور اس کی آبادی موجودہ شہر کے مقابلے میں بہت محدود تھی، اس وقت بھی صاف پانی کی فراہمی ایک بنیادی مسئلہ تھا۔ اس دور کے انجنیئرز نے ملیر کے قدرتی جغرافیے، زیرزمین پانی، دریائی میدان اور زمین کی قدرتی ساخت کو سمجھتے ہوئے ڈملوٹی کے مقام پر ایک مربوط آبی نظام قائم کیا۔

انیسویں صدی کے آخری حصے میں ڈملوٹی کے کنوؤں اور فلٹریشن گیلریوں کے ذریعے ملیر کے زیرزمین پانی کو حاصل کرکے کراچی منتقل کیا جانے لگا۔ ابتدائی نظام کی صلاحیت تقریباً 5 ملین گیلن یومیہ تھی، جب کہ بعد میں اس میں توسیع کی گئی اور اس کی مجموعی گْنجائش تقریباً 20 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ گئی۔ اس زمانے کے لحاظ سے یہ ایک غیرمعمولی منصوبہ تھا کیوںکہ کراچی کی اس وقت کی آبادی اور شہری ضرورت کے مقابلے میں اس نظام کو مستقبل کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بھی سامنے رکھ کر تعمیر کیا گیا تھا۔

ڈملوٹی کا یہ نظام صرفِ کنوؤں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ پانی حاصل کرنے، اسے قدرتی طور پر فلٹر کرنے، ذخیرہ کرنے اور پھر شہر تک پہنچانے کے لئے ایک مربوط انجینئرنگ نظام تھا۔ زیر زمین پانی ریت اور بجری کی قدرتی تہوں سے گزرتا ہوا فلٹریشن گیلریوں تک پہنچتا اور وہاں سے اسے شہری ترسیلی نظام میں شامل کیا جاتا۔ اس طرح قدرتی ارضیاتی خدو خال اور انسانی انجنیئرنگ نے مل کر کراچی کی پانی کی ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈملوٹی سے کراچی شہر تک پانی کی یہ قدیم راہ بھی اپنے اندر ایک دل چسپ داستان رکھتی ہے۔ تاریخی طور پر تقریباً 32 کلومیٹر طویل کنڈوئٹ کے ذریعے پانی ڈملوٹی سے ملیر اور پھر شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچایا جاتا تھا۔ ملیر کینٹ، صفورہ، جامعہ کراچی، گلشن، نیپا، پرانی سبزی منڈی، عزیز بھٹی پارک اور شہر کے مرکزی علاقوں تک پانی پہنچانے والا یہ نظام اس زمانے کی شہری منصوبہ بندی اور انجنیئرنگ کی شان دار مثال تھا۔

آج بھی کراچی کے مختلف حِصّوں میں پرانے اوور ہیڈ ٹینک، زیرزمین پانی کے راستوں اور قدیم آبی تنصیبات کے آثار ہمیں اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ملیر سے شہر کی طرف سفر کرتے ہوئے اِردگِرد کے تاریخی ڈھانچوں پر غور کرے تو اسے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کراچی کی شہری ترقی کے ساتھ پانی کی ترسیل کا یہ نظام کس قدر وسیع اور منظم تھا۔

ڈملوٹی کے نظام کو سمجھنے کے لیے کاریز کے تصورِ آبی کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ کاریز ایک قدیم آبی نظام ہے جس میں زیرزمین پانی کو قدرتی ڈھلوان کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کیا جاتا ہے۔ بلوچستان، افغانستان، ایران اور دیگر خشک علاقوں میں کاریز صدیوں سے پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ ڈملوٹی کا نظام گو کہ مکمل طور پر روایتی کاریز جیسا نہیں تھا کیوںکہ اس میں کنوؤں، فلٹریشن گیلریوں، پمپنگ اور باقاعدہ ترسیلی لائنوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم دونوں نظاموں میں بنیادی تصور مشترک ہے کہ زیرزمین پانی کی قدرتی حرکت اور زمین کی ساخت کو سمجھ کر پانی حاصل کیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈملوٹی ہمیں جدید دور کے لیے بھی ایک اہم سبق دیتا دکھائی دے رہا ہے کہ پانی کے مسئلے کا حل صرفِ بڑے ڈیموں اور نئے ذخائر میں نہیں بلکہ زیرزمین پانی، بارش، دریائی میدان اور قدرتی ری چارج علاقوں کے تحفظ میں بھی پوشیدہ ہے۔

ملیر دریا اِس پورے نظام کی قدرتی بنیاد رہا ہے۔ بارش کے دوران ملیر کے دریائی میدان میں پانی جمع ہوتا ہے اور ریت، بجری اور مٹی کی تہوں کے ذریعے زیرزمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر دریائی راستے متاثر ہوں، قدرتی ری چارج کے علاقے تعمیرات کی نذر ہوجائیں، ریت کا غیرضروری اخراج جاری رہے اور زیرزمین پانی ضرورت سے زیادہ نکالا جائے تو ڈملوٹی جیسے تاریخی آبی نظام کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کراچی کے مستقبل کی آبی حکمت عملی میں ملیر دریا کا تحفظ انتہائی اہم ہونا چاہیے۔ پانی حاصل کرنے کے لیے نئے منصوبے بنانا ضروری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ پانی کے قدرتی ذرائع کو محفوظ رکھا جائے۔

آج ڈملوٹی ایک مرتبہ پھر کراچی کے پانی کے مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کراچی میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے اور ملحقہ علاقوں کو یومیہ 10 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ تقریباً 14 ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے کو 12 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تقریباً 38 کلومیٹر طویل پانی کی لائن کے ذریعے ڈی ایچ اے اور متعلقہ علاقوں کو اضافی پانی فراہم کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ کراچی کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ شہر کی آبادی، رہائشی پھیلاؤ، صنعتی سرگرمیوں اور تجارتی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مختلف مطالعات میں کراچی کی روزانہ پانی کی ضرورت اور دست یاب فراہمی کے درمیان بڑے فرق کی نشان دہی کی گئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق شہر کی ضرورت ایک ارب گیلن یومیہ سے بھی زیادہ ہے جب کہ دست یاب پانی اس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس فرق کو دیکھتے ہوئے 10 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی اگرچہ پورے کراچی کے بحران کا حل نہیں، لیکن یہ ایک اہم اضافہ ضرور ہے۔

اصل کام یابی اس وقت ہوگی جب ڈملوٹی سے حاصل ہونے والا پانی ایک مربوط شہری واٹر گرڈ کا حصہ بنے۔ پانی کے نئے ذرائع کے ساتھ ذخیرہ، فلٹریشن، پمپنگ، ترسیل، تقسیم، میٹرنگ، لیکیج کنٹرول اور پانی کے معیار کی نگرانی بھی مضبوط بنانا ہوگی۔

کراچی میں پانی کے بحران کا ایک اہم پہلو ترسیلی نقصانات بھی ہیں۔ اگر پانی کسی ذریعے سے حاصل کرکے شہر تک پہنچایا جائے لیکن پرانی اور ناکارہ لائنوں، غیرقانونی کنکشنز یا ناقص تقسیم کے باعث بڑی مقدار میں ضائع ہوجائے تو نئے منصوبوں کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے مستقبل کے کراچی میں ہر بڑے آبی منصوبے کے ساتھ پانی کے حساب کا شفاف نظام بھی ضروری ہے۔

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پانی کہاں سے آیا، کتنی مقدار میں آیا، کس ذخیرے میں پہنچا، کس علاقے کو کتنی مقدار فراہم ہوئی اور راستے میں کتنی مقدار ضائع ہوئی۔ جدید شہری انتظام میں پانی کی ہر بوند کا حساب ممکن ہے اور کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے یہ نظام اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو شہری مساوات ہے۔ ڈی ایچ اے اور ملحقہ علاقوں کو اضافی پانی کی فراہمی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کراچی کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لاکھوں شہری بھی اسی بنیادی ضرورت کے حق دار ہیں۔ اس لیے نئے پانی کے منصوبوں کو ایک جامع شہری حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا چاہیے تاکہ پانی کی فراہمی ضرورت، آبادی اور شہری ترجیحات کے مطابق بہتر ہوسکے۔

کراچی کے مسائل صرف پانی تک محدود نہیں۔ ٹرانسپورٹ، سیوریج، بجلی، رہائش، ماحول، روزگار اور شہری منصوبہ بندی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی بھی شہر کے مستقبل کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔ اگر سرکلر ریلوے جدید بس سروس، ماس ٹرانزٹ اور دیگر سفری ذرائع کے ساتھ مربوط ہوجائے تو روزانہ لاکھوں شہریوں کے سفر میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے، سڑکوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے اور وقت، ایندھن اور توانائی کی بچت ہوسکتی ہے۔

کراچی کو اب ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں۔ ایک طرف پانی کی نئی لائنیں، دوسری طرف جدید نکاسی آب، تیسری طرف مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ، چوتھی طرف سبز علاقوں کا تحفظ اور پانچویں طرف قدرتی وسائل کی حفاظت۔ یہی مربوط شہری منصوبہ بندی کسی شہر کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ بناتی ہے۔

ڈملوٹی ہمارے لیے صرف پانی کا ایک مقام نہیں بلکہ کراچی کی انجینئرنگ، جغرافیہ اور شہری تاریخ کا زندہ باب ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے محدود وسائل کے باوجود جو آبی نظام قائم کیا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دوراندیش منصوبہ بندی شہر کے مستقبل کو بدل سکتی ھے۔ آج ہمارے پاس اس زمانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر انجنیئرنگ، وسیع مالی وسائل اور سائنسی معلومات موجود ہیں۔ اگر ان وسائل کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو کراچی کا پانی کا مسئلہ ناقابل حل نہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈملوٹی کے تاریخی نظام کو صرف ماضی کی یادگار کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے کراچی کے آبی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جائے۔ پرانے کنوؤں، فلٹریشن گیلریوں، تاریخی پانی کی لائنوں اور اوور ہیڈ ٹینکوں کی دستاویز بندی اور بحالی کی جائے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ کراچی کے پانی کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور کس طرح ایک نسبتاً چھوٹے شہر کے لیے ایک دور اندیش آبی نظام تشکیل دیا گیا۔

ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے تک پانی کی نئی راہ ہمیں ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک خوبصورت ربط فراہم کرتی ہے۔ ماضی نے ہمیں قدرتی نظام کو سمجھنے کا سبق دیا اور حال ہمیں جدید انجنیئرنگ کے ذریعے اس علم کو دوبارہ استعمال کرنے کا موقع دے رہا ہے۔

کراچی کی اصل ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ شاہراہوں اور بڑے تجارتی مراکز سے نہیں ہوگی۔ اصل ترقی اس وقت ہوگی جب ہر شہری کو صاف پانی، بہتر نکاسی آب، محفوظ سفر، صحت مند ماحول اور باوقار زندگی میسر آئے۔

ڈملوٹی سے اٹھنے والی پانی کی یہ نئی راہ صرف 10 ملین گیلن یومیہ پانی کی راہ نہ بنے بلکہ کراچی کے بہتر مستقبل کی راہ بنے۔ ملیر کے قدرتی آبی نظام کو محفوظ رکھا جائے، تاریخی ورثے کی حفاظت کی جائے، پانی کی ہر بوند کو امانت سمجھا جائے اور نئے منصوبوں کو شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

کراچی نے ماضی میں ڈملوٹی سے پانی حاصل کیا تھا۔ آج ڈملوٹی ایک بار پھر کراچی کی پیاس بجھانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دعا ہے کہ یہ سفر صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہ رہے بلکہ ایک ایسے کراچی کی بنیاد بنے جہاں ترقی اور ماحول، جدیدیت اور تاریخ، شہری سہولت اور قدرتی وسائل ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

اللّہ تعالیٰ کراچی کو پانی کی نعمت، بہتر منصوبہ بندی اور مخلص خدمت کرنے والی قیادت عطا فرمائے اور ہمارے شہر کو ایسا مستقبل دے جہاں پانی کے لیے کوئی شہری بے یقینی، مجبوری اور انتظار کا شکار نہ ہو۔  





Source link

متعلقہ پوسٹ