انسان نے جب پہلی مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا تو وہاں اسے سورج، چاند، ستارے اور ایک ایسی خاموش وسعت دکھائی دی جس کے سامنے اس کی اپنی دنیا نہایت مختصر محسوس ہوتی تھی۔
صدیوں تک خلا انسان کے لیے حیرت، جستجو، عبادت اور تخیل کا میدان رہا، لیکن گزشتہ ایک صدی میں سائنس نے اس خاموش وسعت کو انسانی سرگرمیوں کا حصہ بنا دیا۔ مصنوعی سیارے زمین کے گرد گردش کرنے لگے، مواصلات براعظموں سے نکل کر مداروں تک پہنچ گئے، عالمی سمت یابی کا نظام انسانی زندگی کا روزمرہ حصہ بن گیا، موسم کی پیش گوئی سے لے کر بینکاری، انٹرنیٹ، ٹیلی مواصلات، سمندری سفر، فضائی آمدورفت اور فوجی نگرانی تک بے شمار شعبے خلا پر منحصر ہوگئے۔
اب وہی خلا، جسے کبھی انسان نے جنگوں سے بالاتر ایک مشترکہ میراث سمجھا تھا، عالمی طاقتوں کی نئی عسکری مسابقت کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ 14 ستمبر 2026 کو امریکا کے فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے اعلان کیا کہ امریکی خلائی فورس کے پاس زمین کے مدار میں ’’خلائی کنٹرول کے ہتھیار‘‘ موجود ہیں جو مشترکہ امریکی افواج کو دشمن کی کارروائیوں سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس اعلان کی غیر معمولی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب امریکی حکومت کے کسی اعلیٰ عہدے دار نے علانیہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کے پاس مدار میں تعینات خلائی ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم مینک نے ان ہتھیاروں کی نوعیت، تعداد، مخصوص مدار، تعیناتی کی تاریخ یا عملی صلاحیت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
یہاں خبر کے الفاظ سے زیادہ اہم اس کے پیچھے چھپا ہوا تصور ہے ’’خلائی کنٹرول۔‘‘ عام قاری کے لیے ہتھیار کا تصور عموماً میزائل، توپ، بم یا بندوق سے وابستہ ہوتا ہے، لیکن خلا میں جنگی طاقت کی صورتیں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہیں۔ کسی مصنوعی سیارے کو جسمانی طور پر تباہ کرنا ایک طریقہ ہے، مگر اسے تباہ کیے بغیر اس کے رابطے میں خلل ڈالنا، اس کے سگنل کو جام کرنا، اس کی معلوماتی صلاحیت کو متاثر کرنا، اس کے نظام میں سائبر مداخلت کرنا، اس کے قریب جاکر اس کی سرگرمی کو محدود کرنا یا کسی مخصوص مدار میں اس کی نقل و حرکت پر اثرانداز ہونا بھی ’’خلائی کنٹرول‘‘ کے دائرے میں آسکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ اعلان سے یہ نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ نے مدار میں لازماً ایسا ہتھیار رکھا ہے جو دوسرے سیارچے کو میزائل سے تباہ کرتا ہے۔ بعض ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس نوعیت کے نظام غیر حرکی، مثلاً برقی جنگ یا دوسرے طریقوں پر مبنی ہوسکتے ہیں، مگر امریکی حکومت نے اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی۔
اس فرق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ خلا میں جنگ صرف ’’کسی چیز کو تباہ کرنے‘‘ کا نام نہیں۔ جدید جنگی طاقت کا ایک بڑا حصہ اس معلومات پر منحصر ہے جو مصنوعی سیارے فراہم کرتے ہیں۔ زمین پر موجود فوجی دستے اگر یہ جانتے ہوں کہ دشمن کے میزائل کہاں ہیں، بحری جہاز کس سمت بڑھ رہے ہیں، فوجی دستے کس مقام پر جمع ہورہے ہیں اور کس علاقے میں موسم کیسا ہے تو ان کی فیصلہ سازی کہیں زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے۔
عالمی سمت یابی اور درست وقت کے نظام کے بغیر جدید میزائل، ڈرون، طیارے، بحری جہاز اور فوجی مواصلاتی نظام اپنی بہت سی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ یوکرین کی جنگ نے بھی دکھایا ہے کہ تجارتی اور مواصلاتی خلائی نظام کس طرح زمینی جنگی کارروائیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق تجارتی مصنوعی سیاروی نظام نے یوکرین کو مواصلات، ڈرونوں کی رہنمائی اور حقیقی وقت کی معلومات میں اہم مدد فراہم کی۔
اس لیے آج مصنوعی سیارہ محض آسمان میں گردش کرتا ہوا ایک سائنسی آلہ نہیں رہا۔ وہ کسی ریاست کی آنکھ بھی ہوسکتا ہے، کان بھی، مواصلاتی مرکز بھی، سمت یابی کا ذریعہ بھی اور فوجی کمان کے پورے نظام کا ایک اہم حصہ بھی۔ اگر دشمن کسی ملک کے مصنوعی سیاروں کو ناکارہ بنا دے تو ضروری نہیں کہ زمین پر ایک بھی میزائل داغا جائے، مگر اس ریاست کی جنگی صلاحیت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، چین اور روس کے درمیان خلائی مقابلہ صرف نئے راکٹ بنانے کا مقابلہ نہیں بلکہ اس بات کا مقابلہ بھی ہے کہ جنگ کی صورت میں کون اپنی خلائی آنکھیں کھلی رکھ سکتا ہے اور کون مخالف کی آنکھیں بند کرسکتا ہے۔
امریکی حکام کئی برس سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ چین اور روس ایسی صلاحیتیں ترقی دے رہے ہیں جو امریکی اور اتحادی مصنوعی سیاروں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ امریکی خلائی کمان نے مختلف مواقع پر کہا ہے کہ روس اور چین کے پاس برقی خلل، مواصلاتی اور عالمی سمت یابی کے سگنل میں مداخلت، سائبر حملوں، زمین سے داغے جانے والے مخالفِ مصنوعی سیارہ نظام اور مدار میں موجود دیگر خلائی اجسام کے ذریعے مداخلت جیسی صلاحیتیں موجود یا زیرِترقی ہیں۔ امریکی خلائی فورس بھی اپنی سرکاری دستاویزات میں کہتی ہے کہ چین اور روس خلائی اور مخالفِ خلائی صلاحیتیں تیار کررہے ہیں جن کا مقصد امریکی خلائی خدمات کو متاثر یا محدود کرنا ہوسکتا ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم سائنسی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ خلا میں موجود کسی مصنوعی سیارے کو تباہ کرنا زمین پر کسی عمارت کو تباہ کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ زمین پر عمارت کے ملبے کا زیادہ تر حصہ زمین ہی پر رہتا ہے، مگر مدار میں تباہ کیا جانے والا مصنوعی سیارہ ہزاروں ٹکڑوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ یہ ٹکڑے بھی اسی رفتار سے مدار میں گردش کرتے رہتے ہیں اور دوسرے مصنوعی سیاروں، خلائی اسٹیشنوں اور مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے خطرناک بن سکتے ہیں۔
2007 میں چین کے ایک مخالفِ مصنوعی سیارہ تجربے اور 2021 میں روسی تجربے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملبے نے اس خطرے کو نمایاں کیا۔ اسی پس منظر میں امریکہ نے 2022 میں اعلان کیا تھا کہ وہ تباہ کن براہِ راست داغے جانے والے مخالفِ مصنوعی سیارہ میزائل تجربات نہیں کرے گا۔ ناسا نے بھی خبردار کیا تھا کہ ایسے تجربات زمین کے نچلے مدار میں موجود مصنوعی سیاروں اور انسانی خلائی پروازوں کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف امریکا، چین یا روس کا نہیں۔ خلا میں پیدا ہونے والا ملبہ کسی قومی سرحد کو نہیں پہچانتا۔ اگر ایک ریاست کسی دوسرے ملک کے مصنوعی سیارے کو تباہ کرکے ہزاروں ٹکڑے مدار میں چھوڑ دے تو ان میں سے کوئی ٹکڑا تیسرے ملک کے مصنوعی سیارے سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔ اس طرح ایک جنگی اقدام کا اثر اس ریاست سے کہیں آگے پہنچ سکتا ہے جس کے خلاف وہ کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی سلامتی کا سوال دراصل عالمی سلامتی کا سوال ہے۔
لیکن موجودہ امریکی اعلان کی سب سے گہری معنویت اس کے عسکری پہلو سے بھی آگے ہے۔ یہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ خلائی طاقت اب قومی طاقت کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہے۔ 2019 میں قائم کی جانے والی امریکی خلائی فورس اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ کبھی فضائی طاقت کو جنگ کا فیصلہ کن نیا میدان سمجھا جاتا تھا؛ پھر سمندر اور فضا کے ساتھ سائبر دنیا ایک نیا محاذ بنی؛ اب خلا بھی عملی طور پر اس عالمی عسکری تصور کا حصہ بن چکا ہے جس میں ریاستیں زمین سے اوپر موجود انفرااسٹرکچر کو اپنے دفاع اور طاقت کے لیے بنیادی حیثیت دیتی ہیں۔
یہ تبدیلی صرف عسکری اداروں کی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ جدید تہذیب کی اپنی ساخت کا منطقی نتیجہ بھی ہے۔ جب ہماری معیشت، مواصلات، بینکاری، موسمیاتی نگرانی، فضائی سفر، سمندری تجارت اور فوجی کمان مصنوعی سیاروں پر انحصار کرنے لگیں تو ان سیاروں کا تحفظ قومی سلامتی کا لازمی جزو بن جاتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ’’تحفظ‘‘ اور ’’غلبہ‘‘ کے درمیان لکیر دھندلی ہونے لگتی ہے۔ ایک ریاست کہتی ہے کہ اسے اپنے مصنوعی سیارے بچانے کے لیے ہتھیار چاہیے؛ دوسری ریاست اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھ کر جوابی ہتھیار تیار کرتی ہے؛ پہلی ریاست پھر اپنی دفاعی صلاحیت بڑھاتی ہے؛ یوں دفاعی منطق رفتہ رفتہ عسکری دوڑ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
خلا میں یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ زمین پر فوجی طاقت کے مقابلے کے باوجود سرحدیں، جغرافیہ اور فاصلے ایک خاص حد تک خطرات کو محدود کرتے ہیں؛ خلا میں ایسا نہیں۔ ایک مصنوعی سیارہ زمین کے گرد انتہائی تیز رفتاری سے گردش کرتا ہے اور اس کا مدار ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر موجود دیگر خلائی نظاموں کے ساتھ ایک پیچیدہ تعلق رکھتا ہے۔ یہاں کسی غلط فہمی، غلط حساب یا غیر متوقع مداخلت کے نتائج بہت دور تک پہنچ سکتے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ٹرائے مینک کا اعلان محض ایک فوجی بیان نہیں بلکہ آنے والے زمانے کی ایک علامت ہے۔
انسان نے خلا کو فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا، مگر اب سوال یہ ہے کہ کہیں وہ اسے تقسیم کرنے کی کوشش تو نہیں کررہا؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب امریکا پہلی مرتبہ کھلے الفاظ میں تسلیم کرتا ہے کہ اس کے پاس مدار میں ’’خلائی کنٹرول کے ہتھیار‘‘ موجود ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ ان کا مقصد دشمن کی کارروائیوں سے امریکی افواج کا دفاع ہے۔ بظاہر یہ ایک دفاعی دلیل ہے، لیکن عالمی سیاست میں دفاعی صلاحیت اور جارحانہ صلاحیت کے درمیان فرق ہمیشہ اتنا واضح نہیں رہتا۔ جس ہتھیار کو ایک ریاست دفاع کے لیے ضروری سمجھتی ہے، وہی ہتھیار دوسری ریاست کی نظر میں پہلے حملے کی صلاحیت ہوسکتا ہے۔
اسی لیے خلا میں طاقت کا توازن روایتی جوہری توازن سے مختلف مگر اس سے کم خطرناک نہیں ہوسکتا۔ جوہری ہتھیاروں میں بنیادی خوف یہ تھا کہ ایک غلط قدم پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ خلائی جنگ میں خطرہ شاید مختلف شکل اختیار کرے: مصنوعی سیاروں کی بڑے پیمانے پر تباہی، مواصلاتی نظام کا تعطل، عالمی سمت یابی میں خلل، موسم کی نگرانی کے نظام کی ناکامی، مالیاتی نیٹ ورک پر اثرات اور زمین کے نچلے مدار میں خطرناک خلائی ملبے کا پھیلاؤ۔ یہ سب براہِ راست ایٹمی دھماکے کے مترادف نہیں، مگر جدید تہذیب کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
قانونی اعتبار سے صورتِ حال بھی نہایت دلچسپ ہے۔ 1967 کا بیرونی خلا معاہدہ جوہری ہتھیاروں اور دیگر تباہی پھیلانے والے وسیع پیمانے کے ہتھیاروں کو زمین کے مدار میں رکھنے یا خلا میں کسی اور طریقے سے نصب کرنے سے روکتا ہے۔ چاند اور دیگر اجرامِ فلکی پر فوجی اڈے، قلعہ بندی، ہتھیاروں کے تجربات اور فوجی مشقوں پر بھی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ لیکن معاہدہ ہر قسم کے روایتی ہتھیار کو مدار میں رکھنے پر عمومی پابندی عائد نہیں کرتا۔ یہی قانونی خلا موجودہ خلائی عسکری مسابقت کے لیے ایک بنیادی مسئلہ بن گیا ہے۔
یہ فرق نہایت اہم ہے۔ اگر مدار میں موجود امریکی نظام جوہری یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں تو محض ان کا خلا میں موجود ہونا لازماً 1967 کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بنتا۔ لیکن قانونی طور پر ممکن ہونا اخلاقی طور پر دانش مندانہ ہونے کی ضمانت نہیں۔ تاریخ میں کئی ایسی ٹیکنالوجیاں موجود ہیں جو قانونی تھیں مگر ان کے پھیلاؤ نے عالمی خطرات بڑھا دیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری خلا میں ایسے واضح قواعد بناسکتی ہے جن کے ذریعے دفاعی ضرورت اور تباہ کن عسکری دوڑ کے درمیان حد قائم کی جاسکے؟

چین اور روس پہلے ہی امریکہ کی خلائی پالیسی پر شدید تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے قانونی طور پر پابند معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے خلائی عسکری پروگراموں کو عالمی تزویراتی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایک بڑی طاقت مدار میں مداخلت یا روک تھام کی صلاحیتیں تعینات کرتی ہے تو دوسری طاقتیں خاموش نہیں رہیں گی۔
یہیں سے ’’تھالی میں رکھے ہوئے دفاع‘‘ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ فرض کریں ایک ریاست کے پاس ایسا مصنوعی سیارہ موجود ہے جو دشمن کے مصنوعی سیارے کو جام کرسکتا ہے۔ دوسری ریاست اس خطرے کو محسوس کرکے اسی نوعیت کا نظام تیار کرتی ہے۔ پہلی ریاست پھر زیادہ طاقتور نظام بناتی ہے۔ دوسری ریاست اپنے سیاروں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے مزید مصنوعی سیارے بھیجتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں طرف دفاعی اقدامات کا مجموعہ ایک نئی خلائی اسلحہ دوڑ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
خلائی جنگ کی سب سے خطرناک شکل شاید وہ نہیں ہوگی جس میں میزائل ایک دوسرے کو تباہ کریں؛ ممکن ہے زیادہ خطرناک وہ جنگ ہو جس میں کوئی فریق دشمن کے مصنوعی سیارے کو خاموش کردے اور اسے تباہ بھی نہ کرے۔ اس صورت میں ملبہ پیدا نہیں ہوگا، حملہ بظاہر محدود ہوگا اور اس کا ذمہ دار متعین کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ برقی خلل، سائبر حملہ، قریب جاکر مداخلت یا سگنل میں تبدیلی ایسی صلاحیتیں ہیں جو جنگ کو ’’نظر نہ آنے والی جنگ‘‘ بنا سکتی ہیں۔ امریکی اور اتحادی حکام پہلے ہی چین اور روس کی مختلف مخالفِ خلائی صلاحیتوں، بشمول برقی خلل، سائبر حملوں، براہِ راست مخالفِ مصنوعی سیارہ نظام اور مدار میں قریب جاکر کارروائی کرنے والی صلاحیتوں کے بارے میں خدشات ظاہر کرچکے ہیں۔
اس نئے منظرنامے میں مصنوعی ذہانت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ مدار میں ہزاروں مصنوعی سیارے اور خلائی اجسام موجود ہوں تو انسان کے لیے ہر لمحے ان کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں۔ مصنوعی ذہانت ایسے نظاموں کو ترتیب دے سکتی ہے جو غیر معمولی حرکت کی نشاندہی کریں، کسی دوسرے خلائی جسم کے قریب آنے کا اندازہ لگائیں اور ممکنہ خطرے کی پیش گوئی کریں۔ لیکن یہی صلاحیت ایک نئے خطرے کو بھی جنم دیتی ہے: اگر مصنوعی ذہانت نے کسی معمول کی خلائی سرگرمی کو دشمنی سمجھ لیا تو کیا ہوگا؟ اگر خودکار نظام نے چند سیکنڈ میں دفاعی کارروائی کا فیصلہ کرلیا تو انسانی تصدیق کا وقت کہاں بچے گا؟
یہ سوال زمین پر موجود میزائل دفاع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ خلا میں فاصلے، رفتار اور وقت کا تعلق مختلف نوعیت کا ہے۔ ایک خلائی جسم ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرسکتا ہے۔ چند منٹوں میں اس کی پوزیشن تبدیل ہوجاتی ہے۔ اگر فیصلہ سازی مکمل طور پر خودکار کردی جائے تو غلط فہمی اور غلط شناخت کا خطرہ ایک نئے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی لیے مستقبل کی خلائی سلامتی کا اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہتھیار بناتا ہے۔ اصل چیلنج یہ ہوگا کہ کون ایسی طاقت کے ساتھ زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔ طاقت کا توازن ضروری ہوسکتا ہے، لیکن طاقت کے استعمال کے قواعد اس سے بھی زیادہ ضروری ہیں۔
امریکا کی موجودہ پالیسی میں ایک دل چسپ تضاد بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ تباہ کن براہِ راست مخالفِ مصنوعی سیارہ میزائل تجربات سے اجتناب کی پالیسی کی حمایت کرچکا ہے، کیوںکہ ایسے تجربات خطرناک خلائی ملبہ پیدا کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اب مدار میں خلائی کنٹرول کے ہتھیاروں کی موجودگی کا اعتراف کررہا ہے۔ اس تضاد کو سمجھنے کے لیے ’’تباہی‘‘ اور ’’خلائی کنٹرول‘‘ کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ ممکن ہے مستقبل کی جنگی حکمت عملی ایسی صلاحیتوں کی طرف جائے جو دشمن کے مصنوعی سیارے کو مستقل طور پر تباہ کرنے کے بجائے عارضی طور پر ناکارہ یا محدود کردیں، تاکہ ملبہ کم پیدا ہو۔ لیکن ایسی صلاحیت بھی اگر جنگ کے دوران استعمال ہو تو عالمی خلائی نظام کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
یہاں انسانیت کے لیے ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے: کیا خلا کو بھی زمین کی طرح طاقت کے مقابلے کا میدان بننا چاہیے؟ شاید حقیقت یہ ہے کہ خلا پہلے ہی اس سمت بڑھ چکا ہے۔ اب اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسے عسکری مقابلے سے کیسے مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس مقابلے کو کس طرح ایسے قواعد کے اندر رکھا جائے جو انسانی تہذیب کے مشترکہ مفادات کو تباہ ہونے سے بچائیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خلا صرف فوجوں کا نہیں۔ وہاں موسمیاتی مصنوعی سیارے ہیں، سائنسی مشاہدہ گاہیں ہیں، مواصلاتی نظام ہیں، تجارتی مصنوعی سیارے ہیں اور ایسے بے شمار نظام ہیں جن سے دنیا کی عام شہری زندگی وابستہ ہے۔ اگر خلائی جنگ بڑھی تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن، بیجنگ یا ماسکو تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان جیسے ممالک بھی مواصلات، موسم، عالمی سمت یابی، فضائی و بحری تجارت اور اطلاعاتی نظام کے ذریعے اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
اسی لیے خلا کی عسکری دوڑ کو محض بڑی طاقتوں کا مسئلہ سمجھنا خطرناک ہوگا۔ جس طرح زمین کا ماحول کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں، اسی طرح خلائی ماحول بھی کسی ایک طاقت کا نجی میدان نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ملک کا پیدا کیا ہوا خلائی ملبہ دوسرے ملک کے مصنوعی سیارے کو تباہ کرسکتا ہے؛ ایک طاقت کا برقی خلل کسی دوسری ریاست کی مواصلاتی خدمات کو متاثر کرسکتا ہے؛ ایک خلائی جنگ کا نتیجہ دنیا کے ایسے حصوں تک پہنچ سکتا ہے جہاں جنگ کے فیصلے میں ان کا کوئی کردار ہی نہ ہو۔
ٹرائے مینک نے امریکی اعلان کو دفاع اور بازداریت کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ بدلتے ہوئے خطرات کے ماحول میں امریکہ کو اپنی افواج کو محفوظ رکھنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، اور انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اعلان میں الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔
لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بازداریت اور اسلحہ دوڑ کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی بہت کم رہ جاتا ہے۔ ایک فریق کا ’’دفاع‘‘ دوسرے فریق کے لیے ’’حملے کی تیاری‘‘ محسوس ہوسکتا ہے۔ یہی غلط فہمی جنگوں کو جنم دیتی ہے۔ خلا میں یہ خطرہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ وہاں ہونے والی کارروائیوں کا براہِ راست مشاہدہ مشکل ہوسکتا ہے، ارادوں کا اندازہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا اور فیصلہ سازی کے لیے وقت کم ہوسکتا ہے۔
لہٰذا دنیا کو ایک ایسے نئے خلائی معاہدے کی ضرورت ہے جو صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہ ہو بلکہ مدار میں تعینات روایتی خلائی ہتھیاروں، مخالفِ مصنوعی سیارہ کارروائیوں، خطرناک قریب المداری سرگرمیوں، سائبر اور برقی حملوں، خلائی ملبے اور خودکار جنگی نظاموں کے استعمال کے واضح اصول وضع کرے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی خلائی اسلحہ کی دوڑ روکنے اور غلط فہمی و غلط حساب سے پیدا ہونے والے خطرات کم کرنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
انسان نے چاند پر قدم رکھنے کے بعد یہ سمجھا تھا کہ خلا اسے اپنی حدود سے آزاد کرے گا۔ مگر اب خدشہ یہ ہے کہ زمین کی سیاسی رقابتیں خلا تک پہنچ کر اس نئی دنیا کو بھی طاقت کے تنازع میں تبدیل نہ کردیں۔ آسمان کے بعد خلا بھی اگر میدانِ جنگ بن گیا تو انسان اپنی جنگوں کو صرف زمین سے اوپر منتقل کرے گا، ختم نہیں کرے گا۔
امریکہ کا تازہ اعتراف اسی لیے ایک خبر سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ اس دور کی دستک ہے جس میں جنگی طاقت کی تعریف زمین سے نکل کر مدار تک پہنچ رہی ہے۔ آج سوال یہ نہیں کہ خلا میں ہتھیار ہوسکتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے انسانیت اپنے مشترکہ خلائی ماحول کو کس طرح محفوظ رکھے گی۔
شاید آنے والی صدیوں کے مورخ جب ہماری تہذیب کو دیکھیں گے تو وہ یہ نہیں لکھیں گے کہ انسان نے خلا میں کتنے سیارے بھیجے تھے؛ وہ یہ بھی دیکھیں گے کہ جب انسان نے خلا تک اپنی طاقت پہنچا دی تھی تو کیا اس نے اپنی عقل، ذمہ داری اور اخلاقیات کو بھی وہاں تک پہنچایا تھا یا نہیں۔
کیوںکہ خلا فتح کرنے سے زیادہ مشکل کام شاید اسے جنگ سے بچانا ہوگا۔
اور اگر انسان اس امتحان میں ناکام ہوا تو ممکن ہے زمین پر رہنے والے اربوں انسانوں کو یہ احساس بہت دیر سے ہو کہ انہوں نے جنگ کا میدان آسمان تک پہنچا دیا ہے، مگر اس جنگ سے بچنے کی کوئی دوسری زمین ان کے پاس موجود نہیں۔

