ایران، عراق جانے والے پاکستانی زائرین کو پروازوں کی پیشگی تصدیق کی ہدایت

399359 1481113228


پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے جمعرات کو ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے سفری ہدایت جاری کرتے ہوئے روانگی سے قبل پروازوں کی تصدیق اور متبادل سفری انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے 22 اکتوبر کو جاری سرکلر کے مطابق وزارت خارجہ نے بغداد میں پاکستانی سفارت خانے کی ایڈوائزری سے آگاہ کیا ہے، جس میں ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے سفری انتظامات سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔

ایڈوائزری میں بالخصوص ان زائرین کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ایران اور عراق دونوں ممالک کا سفر کرتے ہیں، ایرانی فضائی کمپنیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں یا تہران اور مشہد سے نجف جانے کے لیے پروازیں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق زائرین روانگی سے قبل ایران اور عراق کے درمیان اپنے سفر کے ہر فضائی مرحلے کی تصدیق کریں اور غیر مصدقہ پروازوں پر انحصار کرنے سے گریز کریں۔

وزارت نے رجسٹرڈ زائرین گروپ آرگنائزرز (زیڈ جی اوز) کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پروازیں منسوخ ہونے کی صورت میں متبادل زمینی یا فضائی سفر، اضافی رقم اور رہائش کے انتظامات یقینی بنائیں۔

یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب عراق نے ایران کے ساتھ ایک سرحدی گزرگاہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، عراقی حکام نے بدھ کو ایران کے ساتھ الشیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عراقی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ گزرگاہ بدھ کی صبح سے غیر معینہ مدت کے لیے بند ہے، تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن نے بھی گزرگاہ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ عراقی وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایت پر کیا گیا۔

دو سیاسی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے عراقی حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مزید سرحدی گزرگاہیں بند کرے۔

 ایک ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے والے عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی۔

ایران اور عراق کے درمیان سیاسی، مذہبی اور اقتصادی تعلقات گہرے ہیں اور دونوں ممالک کی سرحد 1,400 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے، جہاں کم از کم آٹھ سرکاری سرحدی گزرگاہیں موجود ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت اور آمد و رفت میں بھی رکاوٹوں کا اعتراف کیا ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے بدھ کو کہا کہ پاکستان سمیت بعض ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی نقل و حمل میں تعطل آیا ہے، تاہم ان کے بقول ایسی بعض رکاوٹیں معمول کے حالات میں بھی مختلف اوقات میں پیش آتی رہتی ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ