ریاض: یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل ڈرون اور میزائل حملوں کے پیشِ نظر امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں شہری جانیں ضائع ہوئیں اور سفر میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے تیزی سے بڑھنے کا امکان موجود ہے، اس لیے عملے اور ان کے خاندانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے دو غیر ملکی مزدور ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ بھی لگ گئی۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس نے مملکت کی جانب آنے والے متعدد ڈرونز روک کر تباہ کیے، جن میں مشرقی صوبہ، ریاض اور مدینہ کے علاقوں کی جانب آنے والے ڈرون شامل تھے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں میں کارروائی کی تردید کی ہے، تاہم سعودی اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ حوثیوں نے اکتوبر کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بار بار نشانہ بنایا۔
امریکہ کی سفارت خانے نے سعودی عرب میں کام کرنے والے امریکی ملازمین کو ہوائی اڈے استعمال کرنے کے لیے خصوصی اجازت لینے کی ہدایت بھی جاری کی ہے اور ممکنہ مزید حملوں سے خبردار کیا ہے

